افغانستان کا پاکستان پر مشرقی شہر کے مضافات میں گولہ باری کا الزام، شہری ہلاک اور زخمی
عید الفطر کے بعد بدھ کو لڑائی دوبارہ شروع ہوئی
افغانستان کی حکومت نے پاکستان کی فوج پر اتوار کے روز مشرقی افغان شہر کے مضافات میں گولہ باری کا الزام عائد کیا جس میں ایک شخص ہلاک اور ایک درجن سے زائد زخمی ہو گئے۔ دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان دوبارہ لڑائی کا یہ تازہ ترین واقعہ ہے۔
فروری کے اواخر میں شروع ہونے والی لڑائی کئی عشروں میں افغانستان اور پاکستان کے درمیان شدید ترین رہی ہے۔
افغان حکومت کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت نے کہا کہ اتوار کی سہ پہر صوبہ کنر کے شہر اسد آباد کے مضافات میں دیہی علاقوں اور شہریوں کے گھروں کو نشانہ بنایا گیا جس میں "مارٹر اور دیگر بھاری ہتھیاروں" کا استعمال ہوا۔
زخمی بچوں کی تصاویر کے ساتھ ایکس پر ایک پوسٹ میں فطرت نے کہا کہ ابتدائی اعداد و شمار سے پتا چلا کہ ایک شخص ہلاک اور 16 دیگر زخمی ہوئے جو زیادہ تر خواتین اور بچے تھے۔ پاکستان کی جانب سے ان الزامات پر کوئی فوری ردِ عمل سامنے نہیں آیا۔
اس لڑائی میں بار بار سرحد پار جھڑپوں کے ساتھ ساتھ افغانستان کے اندر بھی فضائی حملے دیکھنے میں آئے ہیں جن میں افغان دارالحکومت کابل میں کئی حملے شامل ہیں۔
اس مہینے کے شروع میں افغانستان نے کہا تھا کہ پاکستانی فضائی حملوں میں کابل میں منشیات کی علاج گاہ کو نشانہ بنایا گیا جس میں 400 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اقوامِ متحدہ کے دفتر برائے انسانی امور نے کہا ہے کہ ہلاکتوں کی کل تعداد کی تصدیق ابھی باقی ہے۔ پاکستان نے اس دعوے اور شہریوں کو نشانہ بنانے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس نے گولہ بارود کے ایک ڈپو کو نشانہ بنایا۔
فروری میں افغانستان نے سرحد پار سے پاکستان پر حملہ کیا اور کہا کہ یہ افغان سرحدی علاقوں پر مہلک پاکستانی فضائی حملوں کا بدلہ تھا جن میں اس کے بقول صرف عام شہری ہلاک ہوئے۔ اس کے بعد لڑائی شروع ہوئی۔ اسلام آباد نے کہا تھا کہ حملوں کا نشانہ صرف دہشت گرد تھے۔
گذشتہ ماہ پاکستان نے افغانستان کے خلاف "اعلانِ جنگ" کیا تھا۔ تنازعے پر بین الاقوامی برادری پریشان ہے خاص طور پر چونکہ یہ ایک ایسا علاقہ ہے جہاں القاعدہ اور داعش سمیت دیگر دہشت گرد تنظیمیں اب بھی موجود ہیں اور دوبارہ سر اٹھانے کی کوشش کر رہی ہیں۔
سعودی عرب، ترکیہ اور قطر کی ثالثی کے بعد فریقین نے گذشتہ ہفتے عید الفطر کی تعطیلات سے قبل عارضی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا۔ یہ میعاد گذشتہ ہفتے ختم ہو گئی اور بدھ کے روز دوبارہ لڑائی شروع ہوئی جس میں افغان حکام کے مطابق مشرقی افغانستان میں کم از کم دو شہری ہلاک ہو گئے۔
اب تک درجنوں شہری، سکیورٹی اہلکار اور دہشت گرد ہلاک ہو چکے ہیں۔ فریقین میں ہلاکتوں کے اعداد و شمار پر وسیع اختلاف ہے۔