ہم دباؤ کے آگے نہیں جھکیں گے ... ٹرمپ کی دھمکیوں پر برطانوی وزیر اعظم کا جواب
فرانس کا کہنا ہے کہ نیٹو ایک عسکری اتحاد ہے، اس کا تعلق آبنائے ہرمز میں ایسی کسی کارروائی سے نہیں جو "بین الاقوامی قانون کا احترام نہ کرتی ہو".
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے حالیہ تنقید کے بعد برطانوی وزیر اعظم کیئر اسٹامر نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک ایران، امریکہ اور اسرائیل کے درمیان مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ میں نہیں پڑے گا اور وہ کسی بھی "دباؤ کے آگے نہیں جھکیں گے"۔
کیئر اسٹامر نے آج بدھ کو اپنے خطاب میں کہا "یہ جنگ ہماری جنگ نہیں ہے اور ہم اس میں نہیں کھینچے جائیں گے"۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ اس وقت سب سے اہم معاملہ کشیدگی میں کمی اور آبنائے ہرمز کو کھولنا ہے اور برطانیہ اس سلسلے میں قیادت کرنے کے لیے تیار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ان کے ملک نے آبنائے ہرمز جیسے اہم معاملے پر اجلاس بلانے کے لیے 35 ممالک سے رابطہ کیا ہے۔ انہوں نے اس گزرگاہ کو محفوظ بنانے کے لیے ایک بین الاقوامی اتحاد کی ضرورت پر زور دیا جہاں سے دنیا کے تیل اور گیس کی بیس فی صد ترسیل گزرتی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ "مشرقِ وسطیٰ کی جنگ ہماری نہیں ہے لیکن یہ ہم پر اثر انداز ہو رہی ہے"، اور آبنائے ہرمز کا کھلنا توانائی کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے لیے کلیدی عامل ہے۔ انہوں نے بتایا کہ برطانوی وزیرِ خارجہ اس ہفتے ایک بین الاقوامی اجلاس کی میزبانی کریں گی تاکہ جہاز رانی کی آزادی کی بحالی کے لیے بہترین سفارتی اور سیاسی راستے تلاش کیے جا سکیں۔
نیٹو سے امریکہ کے ممکنہ انخلا سے متعلق ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیوں پر تبصرہ کرتے ہوئے کیئر اسٹامر نے دوٹوک الفاظ میں کہا کہ لندن دباؤ کے سامنے نہیں جھکے گا۔ انہوں نے نیٹو کو "دنیا کا سب سے مؤثر عسکری اتحاد" قرار دیتے ہوئے کہا "دباؤ جیسا بھی ہو، میں اپنے قومی مفادات کے مطابق کام کروں گا"۔
اسی دوران فرانسیسی وزیر مملکت برائے دفاع نے بھی واضح کیا کہ نیٹو ایک عسکری اتحاد ہے اور اس کا تعلق آبنائے ہرمز میں ایسی کسی کارروائی سے نہیں ہے جو "بین الاقوامی قوانین کا احترام نہ کرتی ہو"۔
واضح رہے کہ امریکی صدر گذشتہ چند دنوں سے برطانیہ اور دیگر یورپی ممالک کو آبنائے ہرمز کی سکیورٹی کے لیے اپنی افواج نہ بھیجنے پر تنقید کا نشانہ بنا رہے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو کو "کاغذی شیر" قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے ملک کو اس کی ضرورت نہیں ہے اور وہ اس سے علیحدگی پر غور کر رہے ہیں۔ رواں سال 28 فروری سے جاری اس جنگ اور ایرانی دھمکیوں کے باعث جہاز رانی مفلوج ہو کر رہ گئی ہے، جس نے عالمی سطح پر تیل اور توانائی کی قیمتوں کو آسمان پر پہنچا دیا ہے۔
-
بغداد ایئرپورٹ پر بمباری، عراقی وزیرِ داخلہ نے سکیورٹی قیادت برطرف کردی
گرفتار کرنے کا بھی حکم، بمباری سے ایک فوجی مال بردار طیارے کے دائیں پر کو نقصان ...
مشرق وسطی -
برطانیہ کے سٹارمر کاآبنائے ہرمزدوبارہ کھولنےکےلیےزور،ایران جنگ میں برطانیہ کا کردار مسترد
جنگ اور تجارتی بندش سے ملک میں روزمرہ زندگی کے اخراجات میں اضافہ ہوا ہے
مشرق وسطی -
امریکی-اسرائیلی حملوں نے وسطی، جنوب مغربی ایران میں سٹیل کمپلیکسز کو نشانہ بنایا: میڈیا
ایرانی میڈیا نے بدھ کو اطلاع دی کہ امریکی-اسرائیلی حملوں میں وسطی اور جنوب مغربی ...
مشرق وسطی