جرمن فوجیوں کو طویل غیر ملکی قیام سے متعلق فوج کو آگاہ کرنا ہو گا: نیا قانون
نئی اخباری رپورٹ ہلچل کا باعث بن گئی
فوجی سروس کے ایک نئے جرمن قانون کے تحت زیادہ تر نوجوانوں کا طویل عرصے کے لیے ملک چھوڑنے پر حکام کو مطلع کرنا ضروری ہو گا۔ اس سلسلے میں ایک اخباری رپورٹ پر وسیع پیمانے پر بحث چھڑ گئی ہے۔
وزارتِ دفاع نے ہفتے کے روز اے ایف پی کو تصدیق کی کہ 17 سال کے مردوں کا تین ماہ سے زائد عرصے تک غیر ملکی قیام کے لیے جرمن مسلح افواج سے "پیشگی منظوری لینا ضروری ہے"۔
اگر "متعلقہ عرصے میں بطورِ سپاہی کسی مخصوص سروس کی توقع نہ ہو" تو منظوری دے دی جائے گی، وزارت کے ایک ترجمان نے اے ایف پی کو بتایا۔
نیز کہا، "اس ضابطے کا پس منظر اور رہنما اصول یہ ہے کہ ضرورت پڑنے پر ایک قابلِ اعتماد اور معلوماتی فوجی سروس ریکارڈ یقینی بنایا جائے۔"
ترجمان نے کہا کہ وزارت ایگزٹ پرمٹ کی ضرورت سے استثنیٰ اور درخواستوں کی منظوری کے لیے ایک نظام کا مسودہ تیار کر رہی ہے جس کا مقصد "غیر ضروری بیوروکریسی سے بچنا" ہے۔
جمعہ کو اس ضابطے سے متعلق ایک اخباری رپورٹ سے سوشل میڈیا پر خاصی بحث چھڑ گئی اور کئی لوگوں نے سوال کیا کہ آیا یہ حقیقی ہے اور گذشتہ سال جب فوجی خدمات میں اصلاحات کی تجویز پیش کی گئی تھی تو اس پر کوئی عوامی بحث کیوں نہیں ہوئی۔
نیا سروس قانون جنوری میں نافذ العمل ہوا جس کا مقصد زیادہ سے زیادہ نوجوان جرمنوں کو فوجی تربیت کے لیے رضاکارانہ طور پر راغب کرنا ہے۔
فوجی سروس قانون کے تحت رضاکارانہ رہے گی۔ جرمنی نے 2011 میں بھرتی معطل کر دی تھی۔
لیکن اب تمام 18 سالہ مردوں کے لیے فوجی خدمات میں اپنی دلچسپی سے متعلق ایک سوالنامہ پُر کرنا اور اگر درخواست کی گئی ہو تو طبی معائنہ کروانا ضروری ہے۔
جرمنی نے اپنے کل وقتی فوجیوں اور ارکانِ مخصوصہ کے حجم میں خاطر خواہ اضافہ کرنے پر اتفاق کیا ہے جو نیٹو کے دفاعی منصوبوں کا حصہ ہے۔
-
شمال مغربی ایران میں حملے، پاسدارانِ انقلاب کے پانچ ارکان ہلاک: سرکاری میڈیا
ریاستی میڈیا نے بتایا کہ اتوار کے روز ملک کے شمال مغرب میں امریکی-اسرائیلی حملوں ...
مشرق وسطی -
سعودی عرب کی دمشق میں متحدہ عرب امارات کے سفارت خانے پر حملے کی مذمت
سعودی عرب نے شام میں متحدہ عرب امارات کے سفارتی مشن کو نشانہ بنانے والے حملوں کی ...
مشرق وسطی -
عمان اور ایران کے حکام نے آبنائے ہُرمز پر تبادلۂ خیال کے لیے ملاقات کی
ماہرین نے متعدد نظریات اور تجاویز پیش کیں: عمانی وزارتِ خارجہ
مشرق وسطی