اسرائیلی فوج کا حزب اللہ کے سکریٹری جنرل کے نائب اور بھتیجے کو ہلاک کرنے کا اعلان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

اسرائیلی فوج نے اعلان کیا ہے کہ اس نے گذشتہ روز بیروت پر کیے گئے ایک حملے میں حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم کے نائب کو قتل کر دیا ہے۔

اسی طرح اسرائیلی فوج کے ترجمان اویخائی ادرعی نے جمعرات کو "ایکس" پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ اسرائیلی افواج نے حزب اللہ کے سکریٹری جنرل کے ذاتی معاون علی یوسف حرشی کو ہلاک کر دیا ہے، جبکہ گذشتہ رات جنوبی لبنان میں انفراسٹرکچر کے ایک سلسلے کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ حرشی، جو کہ نعیم قاسم کا بھتیجا تھا، ان کا قریبی اور ذاتی مشیر بھی تھا۔ انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ اس نے نعیم قاسم کے دفتر کے انتظام اور اس کی سکیورٹی میں مرکزی کردار ادا کیا۔

اسرائیلی فوج نے یہ بھی اعلان کیا کہ اس نے مزید دو مرکزی گزر گاہوں کو نشانہ بنایا ہے جنہیں حزب اللہ کے ارکان دریائے لیطانی کے شمال سے جنوب کی طرف منتقلی کے لیے استعمال کرتے تھے تاکہ ہزاروں کی تعداد میں جنگی سازوسامان، راکٹ اور لانچر منتقل کیے جا سکیں۔ اس کے علاوہ جنوبی لبنان میں حزب اللہ کے تقریباً 10 اسلحہ گوداموں، لانچروں اور کمانڈ ہیڈ کوارٹرز کو نشانہ بنانے کا بھی ذکر کیا۔ اسی دوران ایک با خبر اسرائیلی عہدے دار نے انکشاف کیا کہ اسرائیلی افواج نے گذشتہ روز کے حملوں میں حزب اللہ کے کمانڈروں سمیت 220 ارکان کو ہلاک کیا ہے۔

لبنان میں گذشتہ روز ایک خونی دن دیکھا گیا، جہاں اسرائیل نے صرف 10 منٹ کے دوران دارالحکومت بیروت کے مختلف علاقوں میں 100 سے زائد فضائی حملے کیے، جن میں وہ گنجان آباد محلے بھی شامل تھے جو پہلے محفوظ تصور کیے جاتے تھے۔ اس کے علاوہ ملک کے جنوب اور مشرق میں بقاع کے درجنوں قصبوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اس بمباری کے نتیجے میں 250 سے زائد افراد ہلاک اور 1200 سے زائد زخمی ہوئے، جبکہ لبنانی ہسپتال زخمیوں سے بھر گئے۔

بعد ازاں حزب اللہ نے اسرائیل پر حملے جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے شمالی بستیوں کی جانب کچھ راکٹ داغے۔ دوسری طرف ملک میں جنگ کے آغاز سے اب تک کے پُر تشدد ترین دن میں جاں بحق ہونے والوں کے سوگ میں پرچم سرنگوں کر دیے گئے۔ واضح رہے کہ گذشتہ 2 مارچ سے لبنان اس تنازع کی لپیٹ میں ہے جو ایک طرف ایران اور دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل کے درمیان چھڑا ہوا ہے۔ اس کا آغاز حزب اللہ کی جانب سے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے قتل کے "انتقام" میں اسرائیل پر راکٹ داغنے سے ہوا تھا۔ جواب میں اسرائیلی افواج نے بیروت کے جنوبی ضاحیہ کے علاوہ جنوب اور بقاع پر شدید حملے کیے، جبکہ اسرائیلی فوج کے دستے سرحد کے ساتھ واقع کئی جنوبی قصبوں میں پیش قدمی کر رہے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں