کلاس سے دولت تک… ایک استاد نے تعلیمی منصوبے سے 4 ملین ڈالر کما لیے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

41 سالہ امریکی استاد کیون کوری صرف کلاس روم میں بزنس کے اصول نہیں پڑھاتے بلکہ اپنے طلبہ کو ریئل لائف میں کاروبار کی دنیا کے اتار چڑھاؤ کا عملی تجربہ بھی فراہم کرتے ہیں۔

ان کے مطابق یہ سب ایک ایسے سائیڈ پروجیکٹ کے ذریعے ممکن ہوا ہے ،جو انہیں ہر سال لاکھوں ڈالر کی آمدن دیتا ہے۔

کوری نیویارک کی ''یونین ڈیل'' ہائی اسکول میں بزنس کے مضامین پڑھاتے ہیں، جبکہ ساتھ ہی وہ ''اسٹال میٹس'' (Stall Mates) نامی کمپنی کے شریک بانی اور شریک سی ای او بھی ہیں، جو بایوڈیگریڈیبل ٹوائلٹ ٹشوز تیار کرتی ہے۔

CNBC میک اٹ کی دستاویزات کے مطابق 2025 میں اس کمپنی کی آمدن 3اعشاریہ8 ملین ڈالر سے تجاوز کر گئی۔ان کے اس منفرد ماڈل کی خاص بات یہ ہے کہ طلبہ ان کے کاروبار کے ہر مرحلے کو قریب سے دیکھتے ہیں۔

کوری کہتے ہیں: ہر کامیابی اور ہر مشکل حتیٰ کہ ٹیکس اور قیمتوں میں تبدیلی ایک عملی سبق ہے، جسے میں فوراً کلاس میں منتقل کر سکتا ہوں۔

انہوں نے بتایا کہ جب طلبہ کے سامنے اصل بلز اور اخراجات رکھے جاتے ہیں، تو قیمتوں میں اضافے کی وجوہات سمجھانا بہت آسان ہو جاتا ہے۔

یہ کاروبار 2013 میں شروع ہوا جب کوری اور ان کے شریک بانی نے صرف 14 ہزار ڈالر کی سرمایہ کاری سے 100 ہزار پیکٹس تیار کیے۔

ابتدا میں اسے مارکیٹ کرنے میں نو ماہ لگے اور ایک سال بعد ہی کوری نے تدریسی کیریئر شروع کیا، یوں یہ کاروبار ان کے تعلیمی نصاب کا غیر رسمی حصہ بن گیا۔

آج ''اسٹال میٹس'' ہر سال تقریباً 2اعشاریہ5 لاکھ یونٹس فروخت کرتی ہے اور ایمیزون، والمارٹ اور دیگر پلیٹ فارمز پر دستیاب ہے۔

کمپنی 2015 سے مسلسل منافع کما رہی ہے، جبکہ بانیان سالانہ 100 ہزار ڈالر تنخواہ لیتے ہیں اور زیادہ تر منافع دوبارہ کاروبار میں لگایا جاتا ہے۔

کوری ہفتے میں تقریباً 20 گھنٹے اس کاروبار کو دیتے ہیں، جبکہ 40 گھنٹے تدریس میں گزارتے ہیں۔ وہ اپنے طلبہ کے ساتھ کافی کھلے ہیں، لیکن ہر پروڈکٹ کی مکمل لاگت ظاہر نہیں کرتے تاکہ کاروباری ماڈل محفوظ رہے۔

ان کے مطابق ان کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ لاکھوں ڈالر کی فروخت ہمیشہ عیش و آرام کی زندگی کی ضمانت نہیں ہوتی بلکہ یہ مسلسل محنت اور طویل مدتی منصوبہ بندی کا نتیجہ ہوتا ہے۔

اس منصوبے کی ابتدا لانگ آئی لینڈ میں سوئمنگ پولز کی صفائی کے کام سے ہوئی، جہاں عوامی ٹوائلٹس میں ایک عام مسئلہ نے ایک کاروباری آئیڈیا کو جنم دیا۔ بعد میں ایمیزون کے ذریعے فروخت نے کمپنی کو بڑی کامیابی دلائی اور 2015 میں تقریباً 300 ہزار ڈالر کی فروخت ریکارڈ کی گئی۔

ناکامی… ایک تعلیمی سبق

12 سال کے دوران کیون کوری کے طلبہ نے نہ صرف کمپنی کی ترقی دیکھی بلکہ اس کی ناکامیاں بھی قریب سے محسوس کیں۔

2020 میں دونوں بانیوں نے نئی مصنوعات جیسے ''بوڈی میٹس'' اور ''پا میٹس ''کے نام سے توسیع کی کوشش کی، تاہم یہ تجربہ ناکام رہا اور تقریباً 75 ہزار ڈالر کی سرمایہ کاری ضائع ہو گئی۔

بعد ازاں ان منصوبوں کو 2023 میں مکمل طور پر بند کر دیا گیا۔کوری نے یہ نقصان اپنے طلبہ سے نہیں چھپایا بلکہ اسے ایک عملی سبق میں تبدیل کر دیا۔

وہ کہتے ہیں: میں انہیں بتاتا ہوں کہ مجھے ناکامی پر کتنی لاگت آئی، پھر سمجھاتا ہوں کہ ہمیں کیوں آگے بڑھنا چاہیے اور صارفین کی بات کیوں سننی چاہیے۔

شدید مقابلے کے باوجود جہاں بڑی کمپنیاں کروڑوں ڈالر کماتی ہیں، کوری کا فوکس پائیدار اور متوازن ترقی پر ہے۔ ان کے مطابق وہ اپنے طلبہ کو سب سے اہم سبق یہ دینا چاہتے ہیں کہ ناکامی سے خوفزدہ نہیں ہونا چاہیے۔

وہ کہتے ہیں: جب آپ ناکام ہوتے ہیں ،تو آپ دراصل ایک قدم آگے بڑھتے ہیں اور ایک نیا سبق سیکھتے ہیں۔ یہی اصول کاروبار اور زندگی دونوں پر لاگو ہوتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں