تہران کے ساتھ مذاکرات سے لے کر اوربان تک ... بری خبریں امریکی نائب صدر کے تعاقب میں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے پہلے دور کی ناکامی اور ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان کی انتخابی شکست کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس اس وقت توجہ کا مرکز ہیں، تاہم اس بار یہ توجہ ڈونلڈ ٹرمپ کے اہداف حاصل کرنے میں ان کی ناکامی کی وجہ سے ہے۔

گذشتہ ہفتے نائب صدر کو دو اہم ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں : ایرانی وفد کے ساتھ معاہدہ طے کرنا اور اوربان کو اقتدار میں برقرار رکھنے میں مدد دینا، لیکن ان میں سے کوئی بھی مقصد پورا نہ ہو سکا۔ اسلام آباد میں 21 گھنٹے طویل تھکا دینے والے مذاکرات کے بعد، جو تہران کے ساتھ جنگ ختم کرنے کے لیے کسی معاہدے تک نہ پہنچ سکے، 41 سالہ وینس اتوار کو انتہائی بوجھل دل کے ساتھ وطن روانہ ہوئے۔ انہوں نے مختصر پریس کانفرنس میں "بری خبر" سناتے ہوئے صرف تین سوالوں کے جواب دیے۔

ابھی ان کا طیارہ فضا میں ہی تھا کہ انہیں ایک اور دھچکا لگا، وہ یہ کہ ہنگری کے وزیر اعظم وکٹر اوربان نے انتخابات میں شکست تسلیم کر لی، حالانکہ امریکی انتظامیہ نے انہیں اقتدار میں رکھنے کے لیے بھرپور کوششیں کی تھیں۔ ان واقعات کو جے ڈی وینس کے لیے دہرا سیاسی صدمہ قرار دیا جا رہا ہے، کیونکہ انہیں 2028 کے صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کے جانشین کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

تاہم وینس نے اپنے دفاع میں کہا کہ اوربان جیسے "ماگا" نظریات کے حامیوں کے ساتھ کھڑا ہونا ایک درست قدم تھا، چاہے کامیابی نہ بھی ملے۔ انہوں نے واضح کیا کہ وہ بوڈاپسٹ اس لیے نہیں گئے تھے کہ اوربان کی جیت یقینی تھی، بلکہ اس لیے گئے کیونکہ وہ اسے اپنا اصولی فرض سمجھتے تھے۔

اسلام آباد میں وینس کو ایک مختلف چیلنج کا سامنا تھا، کیونکہ وہ ماضی میں خارجہ مداخلت اور ایران کے ساتھ جنگ کے سخت مخالف رہے ہیں۔ وہ نصف صدی کے دوران تہران کے ساتھ مذاکرات کرنے والے سب سے اعلیٰ سطح کے امریکی وفد کی قیادت کر رہے تھے، لیکن رات بھر جاری رہنے والے مذاکراتی دور میں عارضی جنگ بندی کو مستقل امن میں بدلنے میں ناکامی پر ان کی مایوسی واضح تھی۔

اگلے روز وینس نے کچھ امید ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ مذاکرات میں کافی پیش رفت ہوئی ہے۔ دوسری جانب ڈونلڈ ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ایرانی نمائندوں نے ان سے رابطہ کر کے معاہدے کی خواہش ظاہر کی ہے، جبکہ امریکہ نے پیر سے ایرانی بندرگاہوں کا بحری محاصرہ شروع کر دیا ہے۔ ان ناکامیوں کا جے ڈی وینس کے سیاسی مستقبل پر کیا اثر پڑے گا، اس کا فیصلہ 2028 کی انتخابی مہم میں ہوگا جہاں انہیں وزیر خارجہ مارکو روبیو جیسے حریفوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں