حزب اللہ نے اسرائیل کے ساتھ براہ راست مذاکرات کو ایک بار پھر مسترد کر دیا
نعیم قاسم کا کہنا ہے کہ براہ راست مذاکرات سے ہمیں کوئی سروکار نہیں ... اور ہم ہتھیار ہر گز نہیں چھوڑیں گے
حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے پیر کے روز لبنانی حکام پر کڑی تنقید کی اور ان پر اسرائیل کے سامنے جھکنے کا الزام عائد کرتے ہوئے براہ راست مذاکرات کو مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
نعیم قاسم نے اسرائیل کے ساتھ لبنانی حکام کے براہ راست مذاکرات کو مسترد کرتے ہوئے اسے "سنگین گناہ" قرار دیا اور متنبہ کیا کہ اس سے ملک "عدم استحکام کی دلدل" میں پھنس جائے گا۔
اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان 2 مارچ سے شروع ہونے والی حالیہ جنگ کے بعد، واشنگٹن میں لبنان اور اسرائیل کے سفیروں کے درمیان براہ راست مذاکرات کے دو دور ہو چکے ہیں۔ یہ کئی دہائیوں میں دونوں ممالک کے درمیان اپنی نوعیت کے پہلے مذاکرات ہیں۔
مذاکرات کے پہلے دور کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ بندی کا اعلان کیا تھا جس کا آغاز 17 اپریل سے دس روز کے لیے ہوا تھا۔ بعد ازاں مذاکرات کے دوسرے دور کے بعد اس میں تین ہفتوں کی توسیع کر دی گئی۔
لبنانی حکام بارہا یہ دہرا چکے ہیں کہ امریکہ کے زیر نگرانی ہونے والے ان مذاکرات کا مقصد جنگ کا خاتمہ، جنوبی لبنان سے اسرائیل کا انخلا اور بے گھر ہونے والے افراد کی اپنے علاقوں میں واپسی ہے، کیونکہ ان جھڑپوں کی وجہ سے دس لاکھ سے زائد افراد در بدر ہو چکے ہیں۔
نعیم قاسم نے اپنے بیان میں کہا کہ "یہ براہ راست مذاکرات اور ان کے نتائج ہمارے لیے ایسے ہی ہیں جیسے ان کا کوئی وجود نہ ہو اور ان کا ہم سے دور یا قریب کا کوئی تعلق نہیں"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "ہم ہتھیار نہیں چھوڑیں گے"۔
جنگ بندی کے باوجود اسرائیل کی جانب سے لبنان بالخصوص اس کے جنوبی حصے پر فضائی اور توپ خانے کی بم باری جاری ہے۔ اس کی افواج سرحدی قصبوں میں بڑے پیمانے پر مسماری اور دھماکوں کی کارروائیاں کر رہی ہیں، جہاں اسرائیل نے دسیوں دیہات کو باقی لبنانی علاقوں سے الگ کرنے والی ایک "یلو لائن" (زرد لکیر) قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
جنگ بندی کے معاہدے کی رو سے، جس کا متن امریکی وزارت خارجہ نے شائع کیا ہے اور جس کے بارے میں کہا گیا ہے کہ لبنان اور اسرائیل کی حکومتوں نے اسے تسلیم کیا ہے، اسرائیل حملوں کے مقابلے میں کسی بھی وقت "اپنے دفاع کے لیے تمام ضروری اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے"۔
یہ شق حزب اللہ کی جانب سے مکمل طور پر مسترد کی جا رہی ہے۔
لبنانی وزارت صحت کے اعداد و شمار پر مبنی رپورٹ جو خبر رساں ایجنسی "فرانس پریس" نے جاری کی، اس کے مطابق جنگ بندی شروع ہونے کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں کم از کم 36 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں سے 14 اتوار کے روز مارے گئے۔
وزارت صحت کے مطابق 2 مارچ کو جنگ شروع ہونے کے بعد سے اب تک لبنان میں اسرائیلی حملوں کے نتیجے میں 2509 افراد جاں بحق اور کم از کم 7755 زخمی ہو چکے ہیں۔
-
اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے سات دیہات خالی کرنے کا حکم دے دیا
اسرائیلی فوج نے اتوار کے روز جنوبی لبنان کے سات دیہات خالی کرنے کا حکم دیتے ہوئے ...
مشرق وسطی -
لبنان میں 14 ہلاکتیں،اسرائیل اور حزب اللہ کے ایک دوسرے پر جنگ بندی توڑنے کےالزامات
لبنانی وزارتِ صحت نے اتوار کی شام اعلان کیا کہ اسرائیل کی جانب سے جنوبی لبنان پر ...
مشرق وسطی -
لبنانی صدر کا حزب اللہ کو جواب: ملک کو جنگ کی طرف لے جانا غداری ہے
لبنان کے صدر جوزف عون نے پیر کو کہا ہے کہ اسرائیل سے براہِ راست مذاکرات کا مقصد ...
مشرق وسطی