ٹرمپ کی دھمکی کے بعد... جرمن چانسلر کا ٹرانس اٹلانٹک شراکت داری کی پاسداری پر زور
فریڈرک میرٹس کے مطابق جرمنی کا رخ اب بھی مضبوط نیٹو کی طرف ہے
جرمن چانسلر فريڈرک میرٹس نے ٹرانس اٹلانٹک شراکت داری کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس اعلان کے چند گھنٹے بعد سامنے آیا ہے جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ان کی انتظامیہ جرمنی میں تعینات امریکی افواج کی تعداد میں کمی پر غور کر رہی ہے۔
مونستر میں آج جمعرات کے روز ایک فوجی اڈے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ميرٹس نے کہا کہ جرمنی کا رخ اب بھی مضبوط نیٹو اور ایک قابل بھروسا ٹرانس اٹلانٹک شراکت داری کی طرف ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ "جیسا کہ آپ جانتے ہیں، یہ ٹرانس اٹلانٹک شراکت داری خاص طور پر ہمارے دلوں کے اور ذاتی طور پر میرے دل کے بہت قریب ہے"۔
یورپی سفارتی ذرائع اور ایک امریکی دفاعی اہل کار نے انکشاف کیا ہے کہ وائٹ ہاؤس نے نیٹو ممالک کے لیے "اچھے اور شرارتی" ممالک جیسی فہرست تیار کی ہے۔ یہ اقدام صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی ان کوششوں کا حصہ ہے جس کے تحت ان اتحادیوں کو سزا دی جائے گی جنہوں نے ایران کے خلاف جنگ کی حمایت سے انکار کیا تھا۔
ذرائع کے مطابق یہ منصوبہ نیٹو کے سکریٹری جنرل مارک روٹہ کے رواں ماہ واشنگٹن کے دورے سے قبل تیار کیا گیا تھا۔ امریکی ویب سائٹ 'پولیٹیکو' کے مطابق اس میں اتحاد کے رکن ممالک کے تعاون کا جائزہ لینا اور انہیں اجتماعی دفاع کے حوالے سے وابستگی اور امریکی پالیسیوں کی حمایت کی بنیاد پر مختلف درجوں میں تقسیم کرنا شامل ہے۔
اس اقدام کو ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ان اتحادیوں کے خلاف اپنے سابقہ خطرات پر عمل درآمد کی ایک نئی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو ان کے نظریات سے ہم آہنگ نہیں ہیں، جس سے اس فوجی اتحاد پر دباؤ بڑھ گیا ہے جو پہلے ہی امریکی صدر کی تنقید اور اتحاد سے مکمل دست برداری کی دھمکی کے بعد تناؤ کا شکار ہے۔
امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے دسمبر میں ابتدائی طور پر یہ خیال پیش کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا تھا کہ "مثالی اتحادی" جو اپنے دفاعی اخراجات میں اضافہ کریں گے یا واشنگٹن کو عملی تعاون فراہم کریں گے، انھیں "خصوصی رعایت" ملے گی جبکہ دوسروں کو نتائج کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ترجمان اینا کیلی نے اس بات کی تصدیق کی کہ امریکہ ان ممالک کے موقف کو یاد رکھے گا جنہوں نے آپریشن 'ایپک فیوری' (EPIC FURY) کی حمایت نہیں کی، جو کہ پینٹاگان کی جانب سے ایران سے متعلق فوجی آپریشنز کو دیا گیا نام ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ واشنگٹن ان اتحادیوں سے مایوسی محسوس کر رہا ہے جو بڑی تعداد میں امریکی افواج کی میزبانی تو کرتے ہیں لیکن اس کے بدلے میں ویسا تعاون فراہم نہیں کرتے۔
ممکنہ مراعات یا سزاؤں کی تفصیلات ابھی واضح نہیں ہیں، تاہم زیر غور اختیارات میں یورپ کے اندر امریکی افواج کی دوبارہ تعیناتی، یا کم تعاون کرنے والے ممالک کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقوں اور اسلحے کے سودوں میں کمی کرنا شامل ہے، جبکہ پسندیدہ ممالک کے ساتھ تعاون کو مزید فروغ دیا جائے گا۔
-
میرٹز پر تنقید کے بعد... ٹرمپ کا جرمنی میں امریکی افواج کی کمی پر غور
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ان کی انتظامیہ جرمنی میں امریکی افواج کی تعداد ...
بين الاقوامى -
ایران کا خفیہ مالیاتی نیٹ ورک خطے میں تشدد کو ہوا دے رہا ہے : امریکی وزیر خزانہ
بیسنٹ کے مطابق واشنگٹن تہران پر انتہائی دباؤ کی پالیسی لاگو کرے گا
مشرق وسطی -
امریکی سینیٹر نے ایران کے خلاف ٹرمپ کی فوجی کارروائی کی ایک وجہ بتا دی
جون کینیڈی کے مطابق تہران نے ایک ایسا اسلحہ خانہ بنانے کی کوشش کی جو مشرق وسطیٰ کو ...
بين الاقوامى