امریکی ویب سائٹ "axios" نے آج بدھ کے روز انکشاف کیا ہے کہ امریکہ اور ایران جنگ کے خاتمے کے لیے ایک صفحے پر مشتمل مفاہمت کی یاد داشت تک پہنچنے کے قریب ہیں۔ واشنگٹن کو آئندہ 48 گھنٹوں کے اندر تہران سے جواب کی توقع ہے، اگرچہ ابھی تک کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پایا لیکن دونوں ممالک اس وقت معاہدے کے حصول کے لیے اب تک کے قریب ترین مقام پر کھڑے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق امریکہ بعض کلیدی نکات پر ایران کے رد عمل کا منتظر ہے۔ اس مجوزہ معاہدے کے تحت ایران اس بات کا پابند ہوگا کہ وہ یورینیم کی افزودگی روک دے، جس کے بدلے میں امریکہ پابندیاں ہٹانے اور ایران کے بیرونِ ملک منجمد اثاثے بحال کرنے پر رضامندی ظاہر کرے گا۔ یاد داشت کے موجودہ مسودے میں جنگ کے خاتمے کا با ضابطہ اعلان اور 30 روز تک گہرے اور مفصل مذاکرات کا آغاز شامل ہے، جس میں افزودگی روکنے کی مدت کم از کم 12 سال مقرر کرنے پر بات چیت جاری ہے۔
عراقجي أثناء لقاء نظيره الصيني: إيران لن تقبل إلا باتفاق عادل وشامل pic.twitter.com/TUjTlUlcYq
— العربية (@AlArabiya) May 6, 2026
ایک امریکی اہل کار نے تصدیق کی ہے کہ اس یاد داشت میں ایک ایسی شق بھی شامل کی گئی ہے جس کے تحت اگر ایران نے افزودگی کی سطح میں اضافہ کیا تو اس کی معطلی کی مدت میں مزید اضافہ کیا جا سکے گا۔ یہ معاہدہ ایک وسیع تر ایٹمی دائرہ کار وضع کرے گا جس کے تحت ایران بین الاقوامی معائنے کے ایک سخت نظام کی پابندی اور ایٹمی ہتھیار حاصل نہ کرنے کا پختہ عہد کرے گا۔ با خبر ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران اعلیٰ افزودہ یورینیم ملک سے باہر بھیجنے پر راضی ہو گیا ہے اور اس مواد کو امریکہ منتقل کرنا بھی زیرِ غور راستوں میں شامل ہے۔
دریں اثنا چین نے بھی تہران اور واشنگٹن کے درمیان امن مذاکرات شروع کرانے میں عملی تعاون کی پیشکش کی ہے۔ چینی وزیرِ خارجہ وانگ یی نے بیجنگ میں اپنے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ملاقات کے دوران کہا کہ ان کا ملک مشرقِ وسطیٰ میں امن و استحکام کی بحالی کے لیے اپنا بڑا اور فعال کردار ادا کرنے کو تیار ہے۔ ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی نے اس موقع پر واضح کیا کہ ایران اپنی قومی مفادات کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے اور وہ صرف ایک "عادلانہ اور جامع معاہدہ" ہی قبول کرے گا۔
دوسری جانب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس تمام عمل میں "بڑی پیش رفت" ہونے کا اشارہ دیا ہے۔ انہوں نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی نگرانی کے لیے جاری امریکی فوجی آپریشن "پروجیکٹ فریڈم" کو مختصر مدت کے لیے معطل کرنے کا اعلان کیا ہے تاکہ سفارتی کوششوں کو کامیاب بنانے کی راہ ہموار ہو سکے۔ واضح رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر فضائی حملوں کے بعد سے یہ تزویراتی آبنائے عملی طور پر بند ہے، جس نے عالمی سطح پر توانائی کی فراہمی کو بری طرح متاثر کیا ہے اور ایک نیا بحران پیدا کر دیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کا ماننا ہے کہ ایرانی فوجی صلاحیتیں حالیہ حملوں کے نتیجے میں کافی حد تک کمزور ہو چکی ہیں اور تہران اب عوامی سطح پر دھمکیوں کے باوجود حقیقی معنوں میں امن کا خواہاں ہے۔ یہ تنازع نومبر میں ہونے والے امریکی وسط مدتی انتخابات سے قبل ٹرمپ انتظامیہ پر شدید سیاسی دباؤ کا باعث بن رہا ہے، کیونکہ عالمی منڈی میں پیٹرول کی بڑھتی ہوئی قیمتیں براہِ راست ووٹرز کی زندگیوں پر اثر انداز ہو رہی ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ ان امریکی و اسرائیلی حملوں کا بنیادی مقصد حماس تنظیم اور لبنانی گروپ حزب اللہ کی حمایت سمیت ایرانی ایٹمی اور میزائل پروگراموں سے پیدا ہونے والے خطرات کا خاتمہ تھا، جبکہ ایران ان حملوں کو اپنی خود مختاری کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتا ہے۔
-
سعودی وزیرِ خارجہ کا ایرانی ہم منصب سے فون پر رابطہ
سعودی عرب کے وزیرِ خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے بدھ کو اپنے ایرانی ہم منصب عباس ...
مشرق وسطی -
امریکہ کو 48 گھنٹوں میں اہم نکات پر ایران کے جواب کی توقع ہے: ایکسیاس
وائٹ ہاؤس کا خیال ہے کہ وہ ایک صفحے کی مفاہمتی یادداشت پر ایران سے معاہدے کے قریب ...
مشرق وسطی -
ایران اور امریکہ میں معاہدے کا مسودہ تیار، اکثر نکات پر اتفاق ہوچکا:پاکستانی ذرائع
ذرائع کے مطابق معاہدے کے مسودے میں تمام معاندانہ اقدامات کے خاتمے کا ٹائم ٹیبل طے ...
مشرق وسطی