"گھر فوری طور پر خالی کر دیں":اسرائیل کی جنوبی لبنان کے تین قصبوں کے مکینوں کو وارننگ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

اسرائیل نے 17 اپریل سنہ 2026ء سے نافذ العمل جنگ بندی کے باوجود اپنی فوجی کارروائیاں جاری رکھی ہوئی ہیں اور اب اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے تین قصبوں دیر الزهرانی، بفروہ اور حبوش کے مکینوں کو علاقہ خالی کرنے کی وارننگ جاری کر دی ہے۔

اسرائیلی فوج کے ترجمان اویخائی ادرعی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم "ایکس" پر ایک پوسٹ میں کہا ہے کہ ان علاقوں کے مکین فوری طور پر اپنے گھر خالی کر دیں اور "دیہات و قصبات سے کم از کم 1000 میٹر دور کھلے میدانوں کی طرف چلے جائیں"۔ انہوں نے مزید کہا کہ "جو کوئی بھی حزب اللہ کے ارکان، اس کی تنصیبات اور جنگی ساز و سامان کے قریب موجود ہوگا، وہ اپنی زندگی خطرے میں ڈالے گا!"۔

گذشتہ فضائی حملے

یہ وارننگ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب اسرائیل نے جنوبی لبنان میں نبطیہ، جمیجمہ، خربہ سلم، حولین اور دیگر علاقوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔

اسرائیلی فوج نے گذشتہ چند گھنٹوں کے دوران جنوبی لبنان کے مختلف علاقوں میں حزب اللہ کے 15 سے زائد ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا بھی اعلان کیا ہے۔ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ "نشانہ بنائے گئے مقامات میں اسلحہ کے گودام، ہتھیار بنانے کی جگہیں، کمانڈ سینٹرز، لانچنگ سائٹس اور فوجی عمارات شامل تھیں"۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ "حزب اللہ کے ارکان ان عمارات کو جنوبی لبنان اور اسرائیل میں کام کرنے والی اسرائیلی فوجی دستوں پر حملوں کے لیے استعمال کر رہے تھے"۔ اس کے علاوہ یہ دعویٰ بھی کیا گیا کہ "ان لانچنگ پیڈز کو تباہ کر دیا گیا ہے جہاں سے حزب اللہ کے ارکان اسرائیل کی طرف راکٹ فائر کر رہے تھے"۔

رضوان فورس کے کمانڈر کی ہلاکت

اسرائیلی فوج نے آج باضابطہ طور پر حزب اللہ کی رضوان فورس کے آپریشنز چیف مالک بلوط کو ایک درست فضائی حملے میں ہلاک کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اسرائیل نے گذشتہ روز تقریباً ایک ماہ بعد پہلی بار بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے ضاحیہ کے علاقے غبیری پر فضائی حملہ کیا تھا، جس کے نتیجے میں حزب اللہ کے سینیئر کمانڈر جاں بحق ہو گئے تھے۔

اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاھو نے وزیر دفاع یسرائیل کاٹز کے ساتھ ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ فوج نے بیروت میں حزب اللہ کی "رضوان فورس کے کمانڈر" کو نشانہ بنایا ہے۔

حملے، مسماری اور دھماکے

واضح رہے کہ جنگ بندی کے معاہدے میں 17 مئی سنہ 2026ء تک توسیع کے باوجود اسرائیل نے بالخصوص جنوبی لبنان پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ سرحدی قصبوں میں بڑے پیمانے پر مسماری اور دھماکوں کے ذریعے عمارتیں گرانے کی کارروائیاں کی جا رہی ہیں جہاں اسرائیل نے "یلو لائن" قائم کرنے کا اعلان کر رکھا ہے جو درجنوں دیہات کو باقی لبنانی علاقوں سے الگ کرتی ہے۔

دوسری جانب حزب اللہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی افواج کو نشانہ بنانے یا شمالی اسرائیل کی طرف راکٹ اور ڈرون فائر کرنے کی کارروائیوں کا اعلان کرتی رہتی ہے۔

مشرق وسطیٰ میں جنگ کا دائرہ، جو ایران پر مشترکہ اسرائیلی امریکی حملے کے بعد شروع ہوا تھا، لبنان تک اس وقت پھیل گیا جب حزب اللہ نے گذشتہ دو مارچ سنہ 2026ء کو حملے کے پہلے روز ایرانی رہبر اعلیٰ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے ردعمل میں اسرائیل کی طرف راکٹ فائر کیے تھے۔

اس کے جواب میں اسرائیل نے بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے اور ملک کے جنوبی علاقوں میں زمینی یلغار شروع کر دی۔

تب سے اب تک اسرائیلی حملوں میں 2700 سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، جن میں واشنگٹن کی ثالثی میں ہونے والی جنگ بندی کے بعد جاں بحق ہونے والے درجنوں افراد بھی شامل ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں