صومالی قزاقوں نے اغوا کردہ بحری جہاز کے عملے کا تاوان 10 ملین ڈالر کردیا: اہل خانہ
بحری جہاز پر حالات مزید خراب ہو رہے ہیں، مصر اور عالمی برادری مداخلت کرے: احمد راضی
تیل بردار جہاز ’’ ایم ٹی یوریکا ‘‘ کے اغوا کا بحران اس وقت خطرناک موڑ اختیار کر گیا جب صومالی قزاقوں نے جہاز کے عملے، جس میں 8 مصری شامل ہیں، کی رہائی کے بدلے اپنے مالی مطالبات دوگنا کرتے ہوئے 10 ملین ڈالر کر دیے۔ مذاکرات میں تعطل اور رابطوں کے منقطع ہونے کے ساتھ محبوس افراد کے انجام کے حوالے سے خدشات بڑھ رہے ہیں اور ان کے اہل خانہ کی جانب سے اس المیے کے خاتمے کے لیے مصری اور بین الاقوامی مداخلت کی دہائیاں دی جا رہی ہیں۔
تیل بردار جہاز پر اغوا ہونے والے تھرڈ انجینئر محمد راضی عبدالمنعم المحسب کے بھائی احمد راضی نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ جہاز یمن جا رہا تھا اور کھلے سمندر میں انتظار کے دوران قزاقوں نے اس پر حملہ کر کے قبضہ کر لیا اور وہ اسے صومالیہ کی طرف لے گئے۔
انہوں نے مزید کہا کہ انہیں چند روز قبل اپنے بھائی کی ایک فون کال موصول ہوئی جو 5 منٹ سے زیادہ نہیں تھی، جس میں اس نے تصدیق کی کہ مالکانہ کمپنی اور قزاقوں کے درمیان مذاکرات شروع ہو گئے تھے جب مطلوبہ تاوان کی رقم 3 ملین ڈالر تک پہنچی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ان کے بھائی نے بعد میں دوبارہ رابطہ کیا اور اس بات کی تصدیق کی کہ جہاز پر حالات خراب ہو رہے ہیں اور ان کی زندگی خطرے میں ہے۔ انہوں نے مصری اداروں سے انہیں بچانے کے لیے فوری مداخلت کا مطالبہ کیا۔
دوسری جانب انجینئر محمد راضی عبدالمنعم کی اہلیہ امیرہ محمد نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ جہاز "M/T Eureka" کو گزشتہ 2 مئی کو صومالی قزاقوں نے اغوا کیا تھا جس پر ان کے شوہر سمیت 8 مصری سوار تھے۔
حالات کا بگڑنا
امیرہ محمد نے مزید کہا کہ جہاز پر حالات انتہائی مشکل ہیں۔ جہاز کی مالکانہ کمپنی کی جانب سے مطلوبہ تاوان ادا کرنے سے انکار کے باعث اب تک کوئی مداخلت نہیں کی گئی اور وہ محبوس افراد سے رابطہ کرنے یا ان کی خیریت جاننے سے بھی قاصر ہیں۔ انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ بحری جہاز اغوا کرنے والے مسلح گروہ نے شروع میں 3 ملین ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا تھا جسے بعد میں بڑھا کر 10 ملین ڈالر کر دیا گیا۔ بحری جہاز پر موجود افراد کی صورتحال تشویشناک ہو چکی ہے۔
انہوں نے وضاحت کی کہ مسلح افراد اغوا شدگان اور ان کے خاندانوں کے درمیان 5 منٹ سے کم دورانیے کی مختصر کال کی اجازت دے رہے تھے لیکن کمپنی کی جانب سے اغوا کاروں سے مذاکرات بند کرنے کے بعد حالات مزید دشوار ہو گئے ہیں۔
انہوں نے یہ بھی بتایا کہ جہاز پر موجود مصریوں میں تھرڈ انجینئر محمد راضی عبدالمنعم المحسب، آفیسر مؤمن اکرم مختار امین، چیف انجینئر محمود جلال عبداللہ المیکاوی، ملاح سامح عبدالعظیم الدسوقی السید، مکینک اسلم عادل عبدالمنصف سلیم، الیکٹریکل انجینئر محمد احمد عبداللہ، ویلڈر احمد محمود سعد اسماعیل درویش، اور باورچی ادہم سالم شعبان جابر شامل ہیں۔
مصری وزارت خارجہ کی مانیٹرنگ
واضح رہے مصری وزارت خارجہ نے اعلان کیا ہے کہ وہ پنٹ لینڈ کے علاقے کے قریب پیش آنے والے بحری جہاز کے اغوا کے واقعے کی باریک بینی سے نگرانی کر رہی ہے۔ وزیر خارجہ بدر عبدالعاطی نے موغادیشو میں مصری سفارت خانے کو ہدایت کی ہے کہ وہ جہاز پر موجود آٹھوں مصری ملاحوں کی صورتحال پر نظر رکھیں، انہیں ہر قسم کی مدد فراہم کریں، ان کی جلد رہائی کے لیے کام کریں اور مصری ملاحوں کی سلامتی و تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے صومالی حکام کے ساتھ اعلیٰ ترین سطح پر رابطہ کریں۔