امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور چینی وفود کے درمیان تجارتی مذاکرات کے آغاز کے ساتھ ہی یہ انکشاف سامنے آیا ہے کہ وہ اپنے ساتھ ٹیکنالوجی اور کاروباری دنیا کی کئی بڑی شخصیات کو بھی بیجنگ لے جا رہے ہیں۔
ٹرمپ نے اپنی سوشل میڈیا پلیٹ فارم ''سوشل ٹروتھ ''پر بتایا کہ ان کے ہمراہ جو نمایاں شخصیات موجود ہیں ،ان میں این ویڈیا کے بانی اور سی ای او جینسن ہوانگ، ایلون مسک، ایپل کے سی ای او ٹم کک، بلیک راک کے سربراہ لاری فنک، بوئنگ کے کیلی آؤٹبرگ، کارگل کے برايان سائکس، سٹی گروپ کی جین فریزر، جی ای ایرو اسپیس کے لاری کالب، گولڈمین ساکس کے ڈیوڈ سولومون، مائکرون کے سانجے مہروترا اور کوالکوم کے کرسٹیانو آمون شامل ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ چینی صدر شی جن پنگ سے درخواست کریں گے کہ وہ چین کو مزید کھولیں تاکہ یہ تخلیق کار اپنی صلاحیتیں پوری طرح بروئے کار لا سکیں اور چین کی ترقی کو مزید تیز کر سکیں۔
امریکی حکام کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان اس سربراہی اجلاس میں تجارت اور سرمایہ کاری کو آسان بنانے کے لیے نئے میکانزم پر اتفاق متوقع ہے، جبکہ چین کی جانب سے بوئنگ طیاروں، زرعی مصنوعات اور توانائی کی خریداری کے اعلانات بھی کیے جا سکتے ہیں۔
یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ٹرمپ کی دوسری مدتِ صدارت کے آغاز کے بعد امریکا اور چین کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
چین امریکی پابندیوں میں نرمی کا خواہاں ہے، خاص طور پر جدید سیمی کنڈکٹرز اور چپ ٹیکنالوجی کی برآمدات پر پابندیوں کے حوالے سے۔
ادھر امریکی ذرائع کے مطابق ٹرمپ چین سے ایران پر دباؤ ڈالنے کا بھی مطالبہ کریں گے تاکہ جنگ کے خاتمے اور آبنائے ہرمز کو کھولنے کے لیے کوئی معاہدہ ممکن بنایا جا سکے۔
-
امریکی میئر کا چونکا دینے والا اعتراف... چین کے لیے جاسوسی کرتی رہی
ایلین وانگ نے ایک عدالتی معاہدے کے تحت انکشاف کیا ہے کہ وہ امریکہ کے اندر بیجنگ کے ...
بين الاقوامى -
پاکستان اور چین کی امریکہ اور ایران کے درمیان تنازعہ ختم کرانے کی کوششوں پر مشاورت
پاکستان کے وزیر خارجہ محمد اسحق ڈار نے اپنے چینی ہم منصب وانگ ای کے ساتھ خطے کی ...
بين الاقوامى -
ٹرمپ کی حکمتِ عملی ،ایران پر سختی اور چین میں سیاسی فائدے کی کوشش
گزشتہ سال سے چین اور امریکا کے درمیان تعلقات میں نمایاں تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ ...
بين الاقوامى