برطانوی وزیر صحت کا استعفا... لیبر پارٹی کے لیے کیئر اسٹامر کی قیادت کو چیلنج

ویس اسٹریٹنگ ان چند شخصیات میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں جو برطانوی وزیر اعظم کو عہدے سے ہٹانے کی کوشش کر سکتے ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

برطانوی وزیر صحت ویس اسٹریٹنگ نے آج جمعرات کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ اس اقدام کو وزیر اعظم کیئر اسٹامر کی قیادت کو چیلنج کرنے کے اشارے کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

گذشتہ ہفتے مقامی اور علاقائی انتخابات میں لیبر پارٹی کی عبرت ناک شکست کے بعد اسٹامر پر مستعفی ہونے کے لیے دباؤ بڑھ رہا ہے اور اس تناظر میں اسٹریٹنگ حکومت کے پہلے رکن ہیں جنہوں نے استعفا پیش کیا ہے۔ سیاسی عزائم رکھنے والے اسٹریٹنگ ان چند شخصیات میں سے ایک سمجھے جاتے ہیں جو اسٹامر کو عہدے سے ہٹانے کی کوشش کر سکتے ہیں۔

اپنے استعفے کا اعلان کرتے ہوئے اسٹریٹنگ نے قیادت کے لیے نئے مقابلے کی دعوت دی تاکہ اسٹامر کو ہٹایا جا سکے، جنہوں نے اب تک پیچھے ہٹنے کا کوئی اشارہ نہیں دیا۔ اسٹریٹنگ نے اپنے استعفا نامے میں لکھا "اب یہ واضح ہو چکا ہے کہ آپ (اسٹامر) اگلے عام انتخابات میں لیبر پارٹی کی قیادت نہیں کریں گے۔" انہوں نے مزید تنقید کرتے ہوئے کہا کہ جہاں وژن کی ضرورت ہے وہاں خلا ہے اور جہاں سمت کی ضرورت ہے وہاں ہم الجھن کا شکار ہیں۔ انہوں نے اسٹامر پر طنز کیا کہ اکثر لیڈروں کی ذمے داری کی قیمت دوسروں کو چکانی پڑتی ہے۔

روئٹرز کے مطابق اسٹریٹنگ کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کے پاس اسٹامر کا مقابلہ کرنے کے لیے ضروری اکثریت موجود ہے، تاہم انہوں نے فوری مقابلے کے بجائے ایک منظم طریقہ کار کو ترجیح دی ہے۔ دوسری جانب اسٹامر کے قریبی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم اپنے عہدے پر برقرار رہنے کے لیے پرعزم ہیں اور کسی بھی چیلنج کا مقابلہ کریں گے۔

لیبر پارٹی کی قیادت کی مہم شروع کرنے کے لیے اسٹریٹنگ کو 81 اراکینِ پارلیمنٹ کی حمایت درکار ہوگی۔ اس دوڑ میں دیگر ممکنہ حریفوں میں گریٹر مانچسٹر کے میئر اینڈی برنہم اور سابق نائب وزیر اعظم انجیلا رینر شامل ہو سکتے ہیں۔ تاہم ان دونوں کو قانونی اور تکنیکی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔ اسٹریٹنگ کا تعلق لیبر پارٹی کے دائیں بازو سے ہے، جبکہ برنہم اور رینر "معتدل بائیں بازو" کے نمائندے سمجھے جاتے ہیں۔

واضح رہے کہ اسٹامر نے اس ہفتے اپنے حکومتی ایجنڈے کے ذریعے اپنی گرتی ہوئی ساکھ بچانے کی کوشش کی تھی، لیکن وہ ان 90 سے زائد اراکینِ پارلیمنٹ کو مطمئن کرنے میں ناکام رہے جو ان سے رخصتی کا شیڈول مانگ رہے ہیں۔ ان اراکین کا ماننا ہے کہ اسٹامر کی قیادت میں پارٹی کو 2029 کے عام انتخابات میں شکست کا سامنا کرنا پڑے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں