لبنان اور اسرائیل کے درمیان عسکری تعاون کی باتیں غیر حقیقت پسندانہ ہیں: ذرائع

پینٹاگان اجلاس کے مطالبات کا علم نہیں اور اسرائیل کے مطالبات غیر حقیقی ہیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

موجودہ مہینے کے آخر میں اور بالخصوص 29 تاریخ کو نظریں پینٹاگان پر لگی ہوں گی جو امریکی نگرانی میں ایک لبنانی اسرائیلی عسکری اجلاس کی میزبانی کرے گا۔ یہ اجلاس واشنگٹن میں گذشتہ جمعرات اور جمعہ کو منعقد ہونے والے مذاکرات کے تیسرے دور کے دوران تینوں فریقوں کے درمیان طے پانے والے معاہدے کا نتیجہ ہے جس میں امریکی سرپرستی میں لبنانی اور اسرائیلی دونوں اطراف کے نمائندوں (سفراء اور افسران) نے شرکت کی تھی۔

یہ قدم بیروت اور تل ابیب کے درمیان امریکی سرپرستی میں جاری مذاکرات کے دو باہم مربوط راستوں کا حصہ ہے۔ ایک سیاسی راستہ ہے جس کی ذمہ داری دونوں ممالک کے سفراء پر ہے اور دوسرا عسکری راستہ ہے جس میں فوجی افسران شامل ہیں تاکہ جنوب میں تیزی سے بدلتی ہوئی زمینی صورتحال کا مقابلہ کیا جا سکے جو کہ پہلی معاونت کی جنگ کی وجہ سے پیدا ہوئی جس کا اختتام جنوب میں 5 مقامات پر اسرائیلی قبضے کی صورت میں ہوا تھا اور پھر دوسری معاونت کی جنگ ہوئی جس نے مقبوضہ علاقوں کے جغرافیے کو وسعت دے کر 10 سے 12 کلومیٹر کی حدود تک پہنچا دیا جسے یلو لائن یا پیلی لائن بھی کہا جاتا ہے۔

اجلاس کے مطالبات کے بارے میں معلومات کا فقدان

اس تناظر میں ایک باخبر لبنانی ذریعہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ اور الحدث ڈاٹ نیٹ سے گفتگو کرتے ہوئے تصدیق کی ہے کہ امریکی نگرانی میں لبنانی عسکری تعاون کے بارے میں کی جانے والی کوئی بھی بات غیر حقیقت پسندانہ ہے۔ یہ بیان ان موقف اور رپورٹوں کے جواب میں سامنے آیا ہے جن میں اشارہ کیا گیا تھا کہ پینٹاگون اجلاس کا مقصد حزب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے لیے ایک لبنانی اسرائیلی عسکری تعاون کا فریم ورک تشکیل دینا ہے۔ ذریعہ نے وضاحت کی کہ ہماری ترجیح اس مانیٹرنگ میکانزم کمیٹی کو فعال کرنا ہے جس کا کام جنگ بندی کی نگرانی کرنا تھا۔

ذرائع کا کہنا تھا کہ لبنان کے پاس 29 مئی کو پینٹاگان میں ہونے والے عسکری اجلاس میں مانگی جانے والی چیزوں کے بارے میں کوئی معلومات نہیں ہیں اور انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ اجلاس میں شرکت کرنے والے لبنانی عسکری وفد کی تشکیل میں فرقہ وارانہ تقسیم کو مدنظر رکھنا ضروری نہیں ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سرحد کے ساتھ فوج کی دوبارہ تعیناتی جنوب کی سکیورٹی کے لیے بنیادی حیثیت رکھتی ہے اور لبنانی فوج کے تقریبا 7000 اہلکار اب بھی دریائے لیطانی کے جنوب میں موجود ہیں۔

اسی سلسلے میں باخبر ذریعہ نے واضح کیا کہ حالیہ جنگ کے نتیجے میں جنوبی لبنان کے 25 سے زائد دیہات مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں جبکہ موجودہ حالات کے سائے میں جنوب کے 65 قصبوں کے باسی اپنے گھروں کو واپس نہیں لوٹ سکیں گے۔

اسرائیل کے مطالبات

اسرائیل اپنے بنیادی مطالبے پر قائم ہے جو کہ حزب اللہ کو غیر مسلح کرنا ہے اور وہ اپنی بستیوں سے حزب اللہ کے ڈرونز اور میزائلوں کے خطرے کو دور کرنے سے قبل جنگ بندی کی پاسداری کرنے سے انکار کر رہا ہے۔

باخبر ذریعے نے انکشاف کیا کہ اسرائیل کے مطالبات غیر حقیقت پسندانہ ہیں جبکہ امریکہ لبنانی صورتحال کو زیادہ بہتر انداز میں سمجھتا ہے باوجود اس کے کہ وہ وہاں موجود اسرائیلی لابی سے متاثر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ لبنانی فوج اپنی صلاحیتوں سے بڑھ کر کام کر رہی ہے حالانکہ اسے جو امداد فراہم کی جا رہی ہے وہ صرف اس کے روزمرہ کے آپریشنز کو چلانے کے لیے ہے۔

جنگ بندی کی کوششوں میں کمی

ذرائع نے موجودہ صورتحال کے بارے میں کہا کہ ہم جو کچھ دیکھ رہے ہیں وہ فائرنگ پر قابو پانا ہے نہ کہ مستقل جنگ بندی۔ انہوں نے مزید کہا کہ جنگ بندی کو برقرار رکھنے کے لیے کوششیں کی جا رہی تھیں لیکن گذشتہ دنوں ان میں تراجع یا کمی دیکھی گئی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ ہتھیاروں کی واپسی کے لیے فوج کا منصوبہ اچھا تھا لیکن اسے باہر سے ناکام بنا دیا گیا۔

ایک اور تناظر میں باخبر ذریعے نے بتایا کہ لبنان میں پاسداران انقلاب کے عناصر کی تعداد اب اتنی نہیں رہی جتنی حالیہ جنگ کے آغاز میں تھی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ فلسطینی جنگجوؤں کے ساتھ ساتھ جنوب میں شامی جنگجو بھی موجود ہیں اگرچہ ان کی تعداد بہت کم ہے۔ اس حوالے سے باخبر ذریعہ نے تصدیق کی کہ شام کے ساتھ مشرقی سرحد پر فوج کے سکیورٹی اقدامات اب بھی انتہائی سخت ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں