پاسدارانِ انقلابِ ایران نے بدھ کے روز ایک بیان میں خبردار کیا ہے کہ اگر ملک پر دوبارہ حملہ کیا گیا، تو جنگ خطے کی حدود سے باہر بھی پھیل سکتی ہے۔
پاسداران نے کہا کہ اگر واشنگٹن نے ایران پر حملے دوبارہ شروع کیے تو تنازعہ ''خطے سے باہر ''تک وسعت اختیار کر سکتا ہے۔
پاسدارانِ انقلاب نے اپنی ویب سائٹ ''سپاہ نیوز'' پر جاری بیان میں کہا ہے کہ اگر ایران پر دوبارہ جارحیت کی گئی تو ''وعدہ کی گئی علاقائی جنگ'' اس بار خطے سے کہیں آگے تک پھیل جائے گی اور تباہ کن جوابی حملے کیے جائیں گے۔
بیان میں مزید کہا گیا کہ اگر دوبارہ حملہ ہوا تو یہ علاقائی جنگ مشرقِ وسطیٰ کی سرحدوں سے نکل کر بہت دور تک پھیل جائے گی اور ایسے مقامات پر سخت ضربیں لگائی جائیں گی ،جن کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔
پاسداران نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ ماضی کی عسکری جھڑپوں میں ایران نے اپنی مکمل صلاحیت استعمال نہیں کی۔
دوسری جانب ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ایرانی مسلح افواج ہر ممکن صورتِ حال کے لیے تیار ہیں اور وہ ''نئی حیرتوں'' کے ساتھ جواب دینے کے لیے پرعزم ہیں۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے منگل کی شام وائٹ ہاؤس میں ایک تقریب کے دوران کہا کہ واشنگٹن ایران کے ساتھ جنگ کو جلد از جلد ختم کرنا چاہتا ہے اور وہ ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔
اس سے قبل صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ امریکہ ایران پر ایک اور حملہ کر سکتا ہے۔ یہ بات انہوں نے اس انکشاف کے بعد کہی کہ انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان کسی معاہدے کی راہ ہموار کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر حملے کا فیصلہ مؤخر کیا تھا، جبکہ ایرانی فوج نے اس کے جواب میں نئی محاذ آرائی کھولنے کی دھمکی دی ہے۔
ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایران پر واشنگٹن کے حملے دوبارہ شروع کرنے سے صرف ایک گھنٹہ دور تھے، تاہم بعد میں انہوں نے اس حکم کو روک دیا۔
8 اپریل کو جنگ بندی کے نفاذ کے بعد جو 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کے حملوں کے تقریباً 40 دن بعد عمل میں آئی، دونوں ممالک کے درمیان معاہدے کی کوششوں کے لیے رابطے جاری ہیں، تاہم واشنگٹن اور تہران کے مؤقف میںجوہری معاملے پر اب بھی واضح اختلاف پایا جاتا ہے۔