ایران اور ریاست ہائے متحدہ امریکہ کے درمیان نقطہ ہائے نظر کو قریب لانے اور اختلافات کی خلیج کو کم کرنے کے لیے جاری پاکستانی کوششوں کے دوران پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی نے تہران میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے دوبارہ ملاقات کی ہے۔
ایرانی میڈیا کی جانب سے فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق اس ملاقات میں ایرانی اور امریکی فریقین کے مابین اختلافات کو حل کرنے کے لیے تجاویز کا جائزہ لینے کے طریقوں پر تبادلہ خیال کیا گیا، جو محسن نقوی کی جانب سے ایرانیوں کو تازہ ترین امریکی پیغام پہنچانے کے دو دن بعد سامنے آیا ہے۔
فیلڈ مارشل کے دورے کا التوا
یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہوئی ہے جب گذشتہ روز پیش رفت کی صورت میں پاکستانی آرمی چیف عاصم منیر کا دورہ تہران متوقع تھا، تاہم یہ دورہ تہران تاحال مخرّب اقدامات یا حتمی نتیجے تک نہ پہنچنے کے باعث عمل میں نہیں آ سکا ہے۔
اس کے علاوہ یہ ملاقات باوثوق ذرائع کی اس تصدیق کے ساتھ سامنے آئی ہے کہ دونوں فریقین کے مابین اختلافات اب بھی ایرانی حدود سے اعلیٰ افزودہ یورینیم کی منتقلی اور آبنائے ہرمز پر کنٹرول کے معاملے پر مرکوز ہیں۔ امریکہ نے ایران کے اندر یورینیم رکھنے یا آبنائے ہرمز پر کسی بھی قسم کا ایرانی کنٹرول تسلیم کرنے سے سختی سے انکار کر دیا ہے، جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی سپلائی کا پانچواں حصہ گزرتا ہے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گذشتہ رات اس بات پر زور دیا تھا کہ ان کا ملک ایران کے پاس یورینیم کی موجودگی یا تہران کے پاس جوہری ہتھیاروں کے قبضے کو ہرگز قبول نہیں کرے گا۔
دوسری طرف دو ایرانی ذرائع نے رائٹرز کو بتایا کہ ایرانی رہبر مجتبیٰ خامنہ ای اعلیٰ افزودہ یورینیم کو ملک کے اندر ہی رکھنے کے موقف پر قائم ہیں۔
انھی دو ذرائع نے واضح کیا کہ اعلیٰ ایرانی حکام کا ماننا ہے کہ ان مواد کو ملک سے باہر منتقل کرنے سے ملک مستقبل میں امریکی اور اسرائیلی حملوں کے لیے زیادہ کمزور ہو جائے گا۔
بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے تخمینوں کے مطابق ایران کے پاس ساٹھ فیصد تک افزودہ یورینیم کا تقریباً 440 کلوگرام ذخیرہ موجود ہے، جو نظریاتی طور پر چھ سے دس جوہری بم بنانے کے لیے کافی ہے اگر اس کی افزودگی نوے فیصد تک بڑھا دی جائے۔
واضح رہے کہ ایرانی اور امریکی وفود کے مابین براہ راست مذاکرات کا پہلا دور اسلام آباد میں منعقد ہوا تھا تاہم اس کے کوئی نتائج برآمد نہیں ہو سکے تھے۔ تب سے پاکستان رکاوٹیں دور کرنے اور ایک ایسے معاہدے تک پہنچنے کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے جس سے اس جنگ کا خاتمہ ہو سکے جو گذشتہ 28 فروری کو ایک طرف ایران اور دوسری طرف امریکہ اور اسرائیل کے درمیان چھڑی تھی۔