واشنگٹن اور تہران کے درمیان ممکنہ مفاہمت کے بارے میں ہم کیا جانتے ہیں

اختلافی نکات میں افزودہ یورینیم کا مستقبل اور آبنائے ہرمز میں جہاز رانی شامل ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

امریکہ اور ایران ایک ایسی مفاہمت پر کام کر رہے ہیں جس کے نتیجے میں 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ ختم ہو جائے گی، جس نے مشرقِ وسطیٰ کو لپیٹ میں لے رکھا ہے اور تیل کی عالمی مارکیٹ کو درہم برہم کیا ہے۔

جہاں متعلقہ حکام نے اس مفاہمت کی تکمیل کے قریب ہونے کی تصدیق کی، وہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے واضح کیا کہ معاہدے کے لیے کوئی جلدی نہیں ہے۔

دوسری طرف اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے اصرار کیا کہ کسی بھی معاہدے میں تہران کے جوہری پروگرام کا خاتمہ اور تمام محاذوں پر فوجی کارروائی کی آزادی شامل ہونی چاہیے۔ ایرانی نیوز ایجنسی "تسنیم" کے مطابق امریکہ اب بھی منجمد اثاثوں کی بحالی جیسے بعض نکات پر رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے۔

ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے بتایا کہ 14 شقوں پر مشتمل مفاہمت تیار کی جا رہی ہے جو جنگ کے خاتمے پر مرکوز ہے، جبکہ تفصیلی حتمی معاہدہ اگلے 30 سے 60 دنوں میں طے پائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ جوہری مسئلہ اس ابتدائی مفاہمت کا حصہ نہیں بلکہ بعد کا موضوع ہے۔

امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے بھی "نیویارک ٹائمز" سے گفتگو میں کہا کہ یہ انتہائی تکنیکی معاملہ ہے جو 72 گھنٹوں میں حل نہیں ہو سکتا۔ اخبار کے مطابق مجوزہ معاہدے کا ایک بنیادی عنصر تہران کا اپنے 60 فید سے زیادہ افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو ترک کرنا ہے، جس پر اگلے ادوار میں بات ہوگی۔ نیتن یاہو نے ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر گفتگو میں اتفاق کیا کہ کسی بھی حتمی معاہدے میں ایران کی یورینیم افزودگی کی تنصیبات کا خاتمہ اور افزودہ مواد کی منتقلی شامل ہونی چاہیے۔ تاہم ایرانی ایجنسیوں "فارس" اور "تسنیم" کا کہنا ہے کہ تہران نے فی الحال اپنے جوہری پروگرام یا تنصیبات کی بندش کے حوالے سے کوئی عہد نہیں کیا ہے۔

مذاکرات میں ایک بڑا اختلافی نقطہ آبنائے ہرمز میں جہاز رانی ہے، جو جنگ کے آغاز سے ایرانی کنٹرول میں ہے۔ ایران کا اصرار ہے کہ بحری جہازوں کو گزرنے کے لیے اس کی مسلح افواج سے اجازت لینا ہوگی، جبکہ امریکہ اور دیگر ممالک 28 فروری سے پہلے کی آزادانہ صورت حال کی بحالی چاہتے ہیں۔

ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ معاہدے کے تحت آبنائے ہرمز کو کھول دیا جائے گا، جس سے عالمی مارکیٹ کو راحت ملے گی۔ لیکن ایرانی میڈیا کا کہنا ہے کہ ممکنہ معاہدے کی صورت میں بھی اس اسٹریٹجک آبی گزرگاہ پر ایران کا انتظام برقرار رہے گا اور صورت حال پرانی حالت پر نہیں جائے گی۔ مزید برآں ایرانی بندرگاہوں کا امریکی بحری محاصرہ (جو 8 اپریل کو جنگ بندی کے بعد شروع ہوا تھا) 30 دنوں کے اندر مکمل ختم ہونا چاہیے۔

ایران کا اصرار ہے کہ کوئی بھی ابتدائی مفاہمت بیرونِ ملک اس کے منجمد اثاثوں کے ایک حصے کی فوری رہائی اور مستقل بحالی کے واضح طریقہ کار سے مشروط ہوگی۔ "تسنیم" نیوز ایجنسی کے مطابق، امریکہ اب بھی اس شق میں رکاوٹ بن رہا ہے۔ دوسری طرف "فارس" نے بتایا کہ ممکنہ مفاہمت کے تحت امریکہ مذاکرات کے دوران تیل، گیس اور پیٹرو کیمیکلز پر عائد پابندیاں عارضی طور پر اٹھا لے گا۔

ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے اعلان کے باوجود اسرائیل لبنان میں روزانہ حملے کر رہا ہے اور جنوبی سرحد پر مکانات تباہ کر رہا ہے۔ ایران کا موقف ہے کہ جنگ بندی میں لبنان سمیت تمام علاقائی محاذ شامل ہونے چاہئیں اور حزب اللہ نے بھی ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی طرف سے تہران کی مکمل حمایت کے تسلسل کی تصدیق کی ہے۔

ایرانی میڈیا کے مطابق پہلے ایک ایسے مفاہمت نامے کا اعلان ہوگا جو لبنان سمیت تمام محاذوں پر جنگ بندی کی تصدیق کرے گا اور امریکی اتحادی ہونے کے ناطے اسرائیل سے بھی جنگ

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں