امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز زور دیا ہے کہ ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے میں واضح شقیں شامل ہیں جو تہران کو جوہری ہتھیار رکھنے سے روکتی ہیں۔ انھوں نے ان میڈیا رپورٹوں کی تردید کی ہے جن میں کہا گیا تھا کہ یہ مفاہمت ایران کے جوہری پروگرام کا احاطہ نہیں کرتی۔
ٹرمپ نے "ٹروتھ سوشل" پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ "سی این این نے حسب معمول کہا ہے کہ ایران کے ساتھ معاہدے میں جوہری معاملے پر بات نہیں کی گئی، جبکہ یہ بہت واضح طور پر طے پایا ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے۔"
امریکی صدر نے مزید کہا کہ معاہدے میں "دیگر جوہری پہلوؤں کے بارے میں طویل اور مضبوط تفصیلات بھی شامل ہیں"۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ "معاہدے کا زیادہ تر حصہ درحقیقت جوہری معاملے سے متعلق ہے۔"
ٹرمپ نے امریکی نیٹ ورک اور دیگر میڈیا اداروں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ "سی این این اور بہت سے جھوٹے نیوز میڈیا کی ویورشپ میں کمی آ رہی ہے"... یہ ریٹنگ کے لحاظ سے تباہی ہے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں ہوئی ہے جب امریکہ اور ایران ثالثوں کے ذریعے اس جنگ کو ختم کرنے کے لیے معاہدے تک پہنچنے کی بات چیت جاری رکھے ہوئے ہیں جو گذشتہ 28 فروری کو شروع ہوئی تھی۔
امریکی حکام اور با خبر ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ ٹرمپ نے ایرانی فریق کو زیادہ سخت تجویز بھیجی ہے، جس سے بات چیت کا دورانیہ طویل ہو سکتا ہے۔
امریکی صدر پہلے ہی اس بات کی تصدیق کر چکے ہیں کہ وہ تہران کے ساتھ کسی ایسے معاہدے کی اجازت نہیں دیں گے جو اس بات کی ضمانت نہ دے کہ اسے جوہری ہتھیار حاصل نہیں ہوں گے۔ ساتھ ہی انہوں نے کسی معاہدے تک پہنچنے میں ناکامی کی صورت میں جنگ کی طرف واپسی کا اشارہ دیا ہے۔
نیز امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اعلان کیا کہ امریکی محاصرہ ایرانی بندرگاہوں سے تب تک نہیں اٹھایا جائے گا جب تک کہ ٹرمپ کی سرخ لکیروں کو پورا کرنے والا اچھا معاہدہ طے نہ پا جائے۔
ید رہے کہ امریکی پابندیوں کی وجہ سے بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثوں کا معاملہ جنگ ختم کرنے کے لیے جاری مذاکرات میں اہم نکات میں سے ایک ہے۔
اسی طرح افزودہ یورینیم کو ایران سے باہر منتقل کرنے کا مسئلہ بھی ایرانی جوہری فائل کے اندر پیچیدہ مسائل میں سے ایک ہے، اس کے علاوہ آبنائے ہرمز کا معاملہ بھی شامل ہے۔
تہران کو 13 اپریل سے اپنی بندرگاہوں پر امریکی بحری محاصرے کے نتائج کا سامنا ہے، اس کے علاوہ مقامی کرنسی کی قدر میں گراوٹ اور بے روزگاری ہے، جو مغربی پابندیوں کے برسوں بعد پہلے سے ہی کمزور معیشت پر اضافی دباؤ ڈال رہی ہے۔