جنگ ختم کرنے کے لیے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات کے باوجود، امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے اعلان کیا ہے کہ امریکی فوج نے ہفتے کے اوائل میں دو ایرانی جزیروں پر واقع ریڈار تنصیبات اور ڈرون کمانڈ اینڈ کنٹرول مراکز پر فضائی حملے کیے ہیں۔
کمانڈ نے پیر کو جاری ایک بیان میں کہا کہ یہ حملے "ایرانی جارحانہ کارروائیوں کے جواب میں کیے گئے جن میں بین الاقوامی پانیوں کے اوپر پرواز کرنے والے امریکی ایم کیو-1 طیارے کو مار گرانا شامل تھا۔" مزید کہا گیا کہ "یہ درست حملے گزشتہ ہفتے کے روز اور اتوار کو کیے گئے، جن میں کسی بھی امریکی فوجی کو نقصان نہیں پہنچا۔"
— U.S. Central Command (@CENTCOM) June 1, 2026
اسی دوران ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا کہ ان کی فضائیہ نے ایک ایسے فضائی اڈے کو نشانہ بنایا ہے جسے اس نے جزیرہ سیرک پر ٹیلی کمیونیکیشن ٹاور پر امریکی حملے کے طور پر بیان کیا۔ تاہم روئٹرز کے مطابق انہوں نے اس اڈے کے مقام کی وضاحت نہیں کی۔
گذشتہ منگل کو ایرانی وزارت خارجہ نے امریکہ پر 8 اپریل سے نافذ جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کیا تھا، خاص طور پر جنوبی ایران کے صوبہ ہرمزگان پر حملے کے بعد، جس میں قشم، کیش اور ہرمز سمیت متعدد جزائر اور بندر عباس کی مشہور بندرگاہ واقع ہے۔ ایران نے اپنے الفاظ میں "جواب دینے اور اپنا دفاع کرنے کے حق" پر بھی زور دیا۔
ادھر ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے ملک پر کسی بھی نئے حملے کا بھرپور جواب دینے کی دھمکی دی، تاہم بعد میں اس کے ایک کمانڈر نے دوبارہ جنگ شروع ہونے کے امکان کو مسترد کر دیا۔
اس وقت سینٹ کام نے واضح کیا تھا کہ ان حملوں کا ہدف وہ کشتیاں تھیں جو آبنائے ہرمز میں سمندری بارودی سرنگیں بچھانے یا جہازوں کو ہراساں کرنے کی کوشش کر رہی تھیں۔ اس کے علاوہ میزائل اور ڈرون کے ٹھکانے بھی ہدف تھے جو عالمی سطح پر اس اہم گزرگاہ میں جہاز رانی کے لیے خطرہ تھے۔
واضح رہے کہ یہ حالیہ امریکی حملے ایسے وقت میں ہوئے ہیں جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان ثالثوں کے ذریعے مذاکرات جاری ہیں۔ ایسی خبریں بھی ہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جنگ روکنے کے لیے زیر غور تازہ ترین تجویز میں مزید سخت ترامیم شامل کی ہیں۔ تجویز میں کسی بھی ترمیم سے سمجھوتے تک پہنچنے میں مزید تاخیر ہو سکتی ہے، جو کہ خلیج میں تلخ بیان بازی اور کشیدگی سے بھرپور ہفتوں کی سخت مذاکرات کے بعد سامنے آئی ہے۔
ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر اور چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف نے اتوار کو خبردار کیا کہ امریکہ پر بھروسا نہیں کیا جا سکتا۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان کا ملک کسی ایسے معاہدے کو تسلیم نہیں کرے گا جو ایرانیوں کے حقوق کی ضمانت نہ دیتا ہو۔ سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر ہونے والی ایک وڈیو میں قالیباف نے کہا کہ "ہم ایرانی عوام کے حقوق کے تحفظ کا یقین کیے بغیر کسی بھی معاہدے کی منظوری نہیں دیں گے۔" انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی مذاکرات کاروں کو "نہ تو دشمن کی باتوں پر بھروسا ہے اور نہ اس کے وعدوں پر۔"
دوسری جانب ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سرکاری ٹیلی ویژن کو بتایا کہ "جب تک کوئی واضح نتیجہ نہیں نکلتا... اس وقت تک جو کچھ بھی کہا جا رہا ہے وہ محض قیاس آرائیاں ہیں۔"
جوہری معاملہ، افزودہ یورینیم کا مسئلہ، آبنائے ہرمز اور بیرون ملک منجمد ایرانی اثاثے ... واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری مذاکرات کے اہم ترین متنازع نکات ہیں۔ مذاکرات کا مقصد اس جنگ کو ختم کرنا ہے جو گذشتہ 28 فروری کو تہران پر امریکی-اسرائیلی فضائی حملوں سے شروع ہوئی تھی۔