امریکی نائب صدر جی ڈی وینس نے کہا ہے کہ انہیں یقین ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ جنگ کو ایسے ''دلدل'' میں تبدیل نہیں ہونے دیں گے، جس میں امریکہ برسوں تک بغیر کسی واضح مشن، مقصد یا ہدف کے پھنسا رہے۔
تاہم انہوں نے ساتھ ہی یہ اشارہ بھی دیا کہ اگر تہران کے ساتھ سفارتی کوششیں ناکام ہو جائیں تو فوجی آپشن کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔
وینس نے منگل کے روز امریکی اخبار ''یو ایس اے ٹوڈے'' کو ٹیلیفون پر دیے گئے انٹرویو میں کہا: مجھے پورا اعتماد ہے کہ ایک سال بعد ہم ایران میں امریکی مداخلت کے بارے میں بات نہیں کر رہے ہوں گے، یقینی طور پر کئی سال بعد بھی نہیں۔
انہوں نے مزید وضاحت کی کہ ایران میں امریکی کارروائی عراق اور افغانستان کی طرح طویل جنگ میں تبدیل نہیں ہوگی، اگرچہ تنازع کے خاتمے کے لیے مذاکرات جاری ہیں اور اب تک کوئی نتیجہ برآمد نہیں ہوا۔
دیگر آپشنز بھی موجود
جی ڈی وینس نے یہ امکان بھی مسترد نہیں کیا کہ جنگ کے خاتمے سے قبل فوجی کارروائیاں مزید شدت اختیار کر سکتی ہیں، اگر کئی ماہ سے جاری مذاکرات کسی معاہدے تک پہنچنے میں ناکام رہیں۔
انہوں نے کہا: میرا خیال ہے کہ ہم کامیاب ہو جائیں گے، لیکن اگر بالآخر سفارت کاری ناکام ہو گئی تو صدر کے پاس دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔
وینس نے مزید امریکی نشریاتی ادارے فوکس نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ کو جاری نہیں رکھنا چاہتا کیونکہ یہ اس کے مفاد میں نہیں اور وہ مذاکرات کی میز پر سنجیدہ تجاویز پیش کر رہا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ سابق جوہری معاہدے کی ایک بڑی خامی یہ تھی کہ اس میں ایسا مؤثر معائنہ جاتی نظام موجود نہیں تھا ،جو اس بات کی ضمانت دے سکے کہ ایران جوہری ہتھیار تیار نہیں کر رہا۔
وینس کے مطابق صدر ٹرمپ کا ماننا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام کے بارے میں ایک طویل المدتی معاہدہ طے کیا جا سکتا ہے اور وہ اس حوالے سے درست ہیں۔
اسرائیل کے ساتھ تعلقات کے بارے میں انہوں نے کہا کہ بعض معاملات میں واشنگٹن اور تل ابیب کے مفادات ایک دوسرے سے مختلف ہو سکتے ہیں۔
یاد رہے کہ 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف مشترکہ فضائی حملوں کی مہم شروع کی تھی، جس کے بعد اپریل میں امریکی حکام نے ایران اور امریکہ کے درمیان جنگ بندی کے ایک معاہدے کا اعلان کیا تھا۔تاہم گزشتہ چند دنوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان حملوں کا تبادلہ دوبارہ دیکھنے میں آیا۔
بعد ازاں تہران نے بیروت کے جنوبی مضافاتی علاقے پر حملے کے ردعمل میں اسرائیل کی جانب میزائل داغے۔اس کے جواب میں اسرائیل نے ایران کے اندر متعدد مقامات کو نشانہ بنایا۔
اس کے بعدایران اور اسرائیل نے جنگ بندی کا اعلان کیا، تاہم دونوں فریقوں نے خبردار کیا کہ اگر مخالف جانب سے دوبارہ حملے کیے گئے تو جنگ ایک بار پھر شروع ہو سکتی ہے۔