ورلڈ کپ ٹرافی کا معمّہ جو 1983 میں چوری ہوئی... اور آج تک نہ مل سکی !

برازیلی حکام اس نتیجے پر پہنچے کہ 1970 کے ورلڈ کپ کی ٹرافی مجرموں کی جانب سے بلیک مارکیٹ میں فروخت کر دی گئی ہو گی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 4 منٹ

سال 1970 میں میکسیکو نے فٹ بال ورلڈ کپ کے 9 ویں ایڈیشن کی میزبانی کی، جو 31 مئی سے 21 جون تک جاری رہا۔ اس ٹورنامنٹ میں 16 ٹیموں نے حصہ لیا اور اسٹیڈیموں میں تقریباً 16 لاکھ شائقین نے میچ دیکھے۔ برازیل کی فتح کے ساتھ اختتام پذیر ہونے والے اس ٹورنامنٹ میں پیلے (Pelé) کو بہترین کھلاڑی کا ایوارڈ ملا، جبکہ جرمنی کے گیرڈ مولر (Gerd Müller) بہترین گول اسکورر رہے۔

پیلے کی تصویر
پیلے کی تصویر

اس ورلڈ کپ میں برازیل کے پاس تاریخ کی بہترین سمجھی جانے والی ٹیم تھی۔ پیلے کے علاوہ اس ٹیم میں ریوولینو (Rivellino)، جارزینیو (Jairzinho)، گیرسن (Gérson)، ٹوسٹاؤ (Tostão) اور زی ماریا (Zé Maria) جیسے عظیم نام شامل تھے۔ برازیل نے شان دار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے تمام حریفوں کو شکست دی۔ کوارٹر فائنل میں پیرو اور سیمی فائنل میں مغربی جرمنی کو ہرا کر فائنل میں اٹلی کا مقابلہ کیا۔ فائنل میں برازیل نے اٹلی کو 1-4 سے شکست دی جو اس وقت دنیا کی مضبوط ترین ٹیموں میں سے ایک تھی اور 1968 میں یورپی کپ جیت چکی تھی۔ فائنل میں برازیل کے گول پیلے، جارزینیو، گیرسن اور کارلوس البرٹو نے کیے۔ اس طرح سامبا ٹیم نے تیسری بار عالمی ٹائٹل جیتا اور میکسیکو کے ازٹیکا اسٹیڈیم میں پرانی ورلڈ کپ ٹرافی جسے 'جول ریمیٹ کپ' (Jules Rimet) کہا جاتا تھا... اپنے نام کی۔

گیرسن کی تصویر

تیرہ سال بعد 19 دسمبر 1983 کو برازیلی عوام اس وقت صدمے سے دوچار ہوئے جب انھیں معلوم ہوا کہ ورلڈ کپ کی وہ تاریخی ٹرافی برازیلین فٹ بال فیڈریشن کے خزانے سے پراسرار طور پر چوری ہو گئی ہے۔ 1966 کی چوری شدہ ٹرافی کے برعکس، 1970 کی یہ ٹرافی کبھی نہیں ملی اور آج تک اس کا کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ شک کی انگلیاں 'اتلیٹیکو مینیورو' کلب کے ایجنٹ سرجیو پریرا آئرس پر اُٹھیں جو 'سرجیو پیرالٹا' کے نام سے معروف تھا۔

اس سازش کے ماسٹر مائنڈ نے ایک سابق پولیس اہل کار فرانسسکو رویرا اور ایک ڈیکوریٹر خوسے لوئیس ویرا کی مدد لی۔ وقوعہ کے دن ان دونوں نے گارڈ کو بے بس کر کے ورلڈ کپ ٹرافی اور دیگر انعامات چوری کر لیے۔ تفتیش کے دوران تالا توڑنے کے ماہر انتونیو سیٹا نے انکشاف کیا کہ سرجیو پیرالٹا نے اسے بھی اس واردات میں شامل ہونے کی پیشکش کی تھی، لیکن اس نے وطن پرستی اور اپنے بھائی کی یاد میں جو 1970 کے ورلڈ کپ فائنل والے دن ہی انتقال کر گیا تھا، اس پیشکش کو ٹھکرا دیا تھا۔

ریویلینو کی تصویر

برازیلی حکام نے تینوں ملزمان کو گرفتار کر لیا۔ اسی دوران تفتیش کاروں کو ارجنٹائن کے سونے کے تاجر ہوان کارلوس ہرناندیز پر بھی شبہ ہوا کہ اس نے ٹرافی کو پگھلا کر سونے کی اینٹیں بنا دی ہیں۔ تاہم اس کے سونے کے ذخائر کی جانچ کے بعد وہاں ورلڈ کپ ٹرافی میں استعمال ہونے والے سونے کا کوئی سراغ نہیں ملا، جس کے بعد اس کے خلاف تحقیقات ختم کر دی گئیں۔ بعد ازاں برازیلی حکام نے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ ٹرافی بلیک مارکیٹ میں فروخت کر دی گئی ہو گی۔ سال 1984 میں برازیل نے کھوئی ہوئی ٹرافی کی ایک ہو بہو نقل حاصل کی۔

فیصلہ آنے کے قریب ہی تینوں بنیادی ملزمان عدالت سے فرار ہو گئے۔ 1989 میں فرانسسکو رویرا کو ایک شراب خانے میں گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا، جبکہ خوسے لوئیس ویرا کو گرفتار کر لیا گیا اور اسے جیل بھیجا گیا جہاں سے وہ 1998 میں رہا ہوا۔ ماسٹر مائنڈ سرجیو پیرالٹا کو بھی دوبارہ گرفتار کیا گیا، جس نے کئی سال قید کاٹی اور 1998 میں رہائی کے بعد 2003 میں دل کا دورہ پڑنے سے انتقال کر گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں