دنیا کو حیران کرنے والا ''ہمپ بیک وہیل ''ریسکیو، مگر زندگی نہ بچ سکی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

جرمن حکام نے جمعہ کے روز بتایا ہے کہ ہمپ بیک وہیل(Humpback Whale) ''ٹیمی'' جسے ڈنمارک کے ساحل پر پانی بہا کر لے آیا تھا، غالب امکان ہے کہ بحیرہ شمال میں دوبارہ چھوڑے جانے کے چند دن بعد ہلاک ہو گئی۔

شمال مشرقی جرمنی کی ریاست میکلنبرگ-فورپومرن کے وزیر ماحولیات ٹیل باکھاؤس کے مطابق اندازہ ہے کہ وہیل 6 یا 7 مئی کو مر گئی تھی۔

یہ نتیجہ اس ٹریکنگ ڈیوائس کے ڈیٹا کے تجزیے کی بنیاد پر اخذ کیا گیا ،جو 2 مئی کو اسے سمندر میں واپس چھوڑنے سے پہلے اس پر نصب کیا گیا تھا۔

یہ وہیل ''ٹیمی'' جس کے بارے میں بعد میں معلوم ہوا کہ وہ مادہ تھی، کئی مہینوں تک جرمنی میں خاص توجہ کا مرکز بنی رہی تھی، جب وہ ملک کے بحیرہ بالٹک کے ساحل پر پھنس گئی تھی۔

سرکاری حکام کے مطابق جب سرکاری ادارے وہیل کو آزاد کرانے میں ناکام رہے تو ایک نجی اقدام کے تحت، جس کی مالی معاونت چند ارب پتی افراد نے کی، اسے بحیرہ شمال میں واپس چھوڑنے کی کوشش کی گئی۔

تاہم ماہرینِ ماحولیات نے پہلے ہی خبردار کیا تھا کہ وہیل شدید کمزوری کا شکار ہے اور اس عمل کے دوران اسے شدید تکلیف کا سامنا ہو سکتا ہے۔ ''ٹیمی'' کو ڈنمارک کے شمالی ساحل کے قریب اسکاگن بندرگاہ سے تقریباً 70 کلومیٹر کے فاصلے پر سمندر میں چھوڑے جانے کے دو ہفتے بعد اس کی لاش لہروں کے ساتھ ڈنمارک کے جزیرے انہولٹ کے ساحل پر پہنچ گئی۔

ٹریکنگ ڈیٹا سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ہمپ بیک وہیل نے تقریباً 215 کلومیٹر کا سفر طے کر کے بحیرہ بالٹک کی طرف رخ کیا، جو اس کا قدرتی مسکن نہیں ہے، اس کے بعد اس کی موت واقع ہو گئی۔

وزیر ماحولیات ٹیل باکھاؤس کے مطابق جب وہیل وہاں پہنچی تو اس کی رفتار مزید کم ہو گئی اور وہ پہلے کی طرح گہرائی میں غوطہ لگانے کے قابل بھی نہیں رہی۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں