وائٹ ہاؤس کا صومالی ریفری کو امریکہ میں داخلے سے روکنے کے فیصلے کا دفاع
ورلڈ کپ فٹبال سے متعلق وائٹ ہاؤس کی ٹاسک فورس کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر نے صومالی ریفری عمر ارتان کو امریکہ میں داخلے سے روکنے کے فیصلے کا دفاع کیا ہے۔
اینڈریو جولیانی نے اتوار کو "یو ایس اے ٹوڈے" اخبار کو بتایا کہ جس ریفری کی طرف اشارہ کیا جا رہا ہے، اس حوالے سے کچھ ایسی باتیں ہیں جن کے بارے میں بات نہیں کی جا سکتی... لیکن کم از کم جو چیز سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ وہ امریکہ پہنچنے سے پہلے انتہائی برے لوگوں کے ساتھ رابطے میں تھے۔
انہوں نے مزید کہا کہ وہ صرف اتنا ہی کہیں گے کہ فٹ بال ٹورنامنٹ کے حکام کو ایسے برے لوگوں کو امریکہ میں داخل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ یہ ذمہ داری ہے کہ سب کو ایک ناقابل فراموش تجربہ فراہم کیا جائے اور اس کا مطلب یہ یقینی بنانا ہے کہ امریکہ میں داخل ہونے والے افراد کی نگرانی کرنے کی صلاحیت موجود ہو۔
ارتان کو امریکہ میں داخلے سے روک دیا گیا حالانکہ ان کے پاس ویزا موجود تھا اور حکام نے اس کی وجہ صومالیہ میں ان کے مبینہ روابط سے متعلق سکیورٹی خدشات کو قرار دیا ہے۔
فیفا کے صدر جانی انفانتینو نے اس فیصلے کو افسوس ناک قرار دیا اور تصدیق کی کہ ارتان کو اس کام کا معاوضہ ملے گا جو وہ ٹورنامنٹ میں انجام دینے والے تھے۔
امریکہ میں سفری پابندیاں ٹورنامنٹ کے دوران ایک اہم موضوع رہی ہیں، کیونکہ ایرانی کھلاڑیوں اور تکنیکی عملے کے کچھ ارکان کو مہینوں کی غیر یقینی صورت حال کے بعد ویزے دیے گئے تھے۔
تاہم جولیانی نے اس صورت حال سے نمٹنے کے امریکی طریقے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ ان تمام کھلاڑیوں کو دیکھ سکتے ہیں جو ویزوں کے ساتھ ٹورنامنٹ میں داخل ہوئے ہیں... یہ واقعی بہت اچھا ہے... تمام کوچز کو ویزے مل گئے، اس لیے ٹورنامنٹ کا کوئی بھی میچ متاثر نہیں ہوا