آبنائے ہرمز جمعہ کو مکمل طور پر کھل جائے گی: ٹرمپ

سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے: امریکی صدر

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جی سیون سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے فرانسیسی شہر ایویان پہنچنے کے فوراً بعد ایران کے ساتھ معاہدے پر دستخط کا اعلان کیااور اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ آبنائے ہرمز جمعہ کو مکمل طور پر کھل جائے گی۔ ٹرمپ نے تہران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہوں گے۔

انہوں نے اپنے فرانسیسی ہم منصب ایمانوئل میکرون کی موجودگی میں صحافیوں کو یہ بھی بتایا کہ ایران کے ساتھ معاہدے کا متن جمعہ کے بعد شائع کیا جا سکتا ہے ۔ جنیوا میں دستخطوں کی باقاعدہ تقریب کے لیے یہی تاریخ مقرر ہے۔

پابندیوں میں نرمی کا تعلق رویے سے

امریکی صدر نے کہا کہ وہ نہیں جانتے کہ آیا وہ جنیوا میں دستخطوں کی تقریب میں شرکت کریں گے یا نہیں لیکن انہوں نے بتایا کہ ان کے نائب جے ڈی وینس وہاں موجود ہوں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ معاہدے پر مکمل دستخط ہو چکے ہیں اور جیسا کہ آپ جانتے ہیں، آبنائے پہلے ہی جزوی طور پر کھلی ہے اور جمعہ کو یہ مکمل طور پر کھل جائے گی۔ مفاہمت کی یادداشت کا متن شائع ہونے کی تاریخ کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں امریکی صدر نے کہا کہ شاید بہت جلد۔ میں کہوں گا کہ جمعہ کے کچھ ہی دیر بعد، میرے خیال میں بہت ہی قریب مستقبل میں۔

ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ تہران پر عائد پابندیوں میں کوئی بھی نرمی واقعی رویے سے مشروط ہے۔ اگر وہ وہ کرتے ہیں جو ان سے متوقع ہے تو یہ شروع ہو جائے گا۔ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس وینس نے پیر کو اس سے پہلے انکشاف کیا تھا کہ معاہدے پر گزشتہ روز اتوار کو الیکٹرانک طریقے سے دستخط کیے گئے تھے اور ابھی تک کوئی رقم جاری نہیں کی گئی ہے۔ فرانس پریس کو ایک باخبر سفارت کار نے بتایا ہے کہ توقع ہے کہ امریکی اور ایرانی فریقین اس ہفتے دوحہ میں بالواسطہ ملاقاتیں کریں گے تاکہ 19 جون کو جنیوا میں معاہدے پر باقاعدہ دستخط کی تیاری کی جا سکے۔

سفارت کار ، جس نے جاری انتظامات کی حساسیت کے پیش نظر اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بات کی ، بتایا کہ کہ سوئٹزرلینڈ میں باقاعدہ دستخط اور تکنیکی مذاکرات کے آغاز سے پہلے اس ہفتے دوحہ میں ہر فریق کے ساتھ الگ الگ ابتدائی ملاقاتیں ہوں گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ قطری ثالث 17 گھنٹے کے طویل مذاکرات کے بعد تہران سے روانہ ہوئے۔ یہ مذاکرات اتوار کو شروع ہوئے اور معاہدے کے حصول پر ختم ہوئے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں