امریکی وزیر جنگ پیٹ ہیگستھ نے باور کرایا ہے کہ اگر تہران نے اپنی ذمے داریوں کو پورا نہ کیا تو امریکہ ایران پر سخت محاصرہ مسلط کرنے اور اس کے خلاف فوجی کارروائیاں دوبارہ شروع کرنے کے لیے تیار ہے۔ یہ موقف امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کی جانب سے دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کرنے کے بعد سامنے آیا ہے۔
ہیگستھ نے آج جمعرات کے روز برسلز میں نیٹو کے وزرائے دفاع کے ساتھ ملاقات کے بعد مزید کہا کہ امریکہ کے پاس اس صورت میں ایران پر دوبارہ حملے کرنے کے لیے ضروری افواج اور صلاحیتیں موجود ہیں اگر وہ عمل نہ کرے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ اگر ایران معاہدوں پر عمل نہ کرے تو اس پر دوبارہ سخت محاصرہ مسلط کرنا ممکن ہے۔
انہوں نے یہ بھی باور کرایا کہ ایران کے ساتھ معاہدہ امریکی طاقت کے مقام سے ہوا ہے اور یہ کہ ان کا ملک مذاکرات کے دوران "بھاری لاٹھی" بنے گا۔ مزید یہ کہ اگر تہران نے اپنے جوہری عزائم ترک نہ کیے تو فوجی کارروائی کے لیے تیاری ہو گی۔
ہیگستھ نے مزید کہا کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہیں ہو سکتے۔ انھوں نے اس بات پر زور دیا کہ آبنائے ہرمز ایک بین الاقوامی سمندری گزرگاہ ہے۔
امریکی وزیر جنگ نے کہا کہ واشنگٹن آبنائے ہرمز سے متعلق کسی بھی پیش رفت کی صورت میں خطے میں اپنی افواج کی پوزیشن کا جائزہ لے گا۔ انھوں نے معاہدے کے مطابق ایران کے اپنے وعدوں کی پاسداری کو یقینی بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ سب کچھ امریکی اور ایرانی صدور کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں 28 فروری کو شروع ہونے والی جنگ کے خاتمے کے لیے دور سے مفاہمت کی یاد داشت پر دستخط کرنے کے اگلے دن سامنے آیا ہے۔ موجودہ مفاہمت کی یاد داشت جسے ایک اعلیٰ امریکی عہدے دار نے کل بروز بدھ صحافیوں کے سامنے پڑھ کر سنایا، اس بات پر متفق ہے کہ امریکہ دستخط ہوتے ہی ایرانی تیل کی فروخت پر اپنی پابندیاں معطل کر دے گا۔
واشنگٹن 60 دن کے مذاکرات کے دور کے اختتام پر حتمی معاہدے تک پہنچنے کی صورت میں تہران سے اپنی تمام پابندیاں ہٹانے کا بھی پابند ہے۔
معاہدے کے مطابق ایران کو 30 دنوں کے اندر اسٹریٹجک آبنائے ہرمز میں مکمل سمندری جہاز رانی کو بحال کرنے کی اجازت دینی ہوگی، جبکہ اس کی طرف سے عائد کردہ مسلسل بندش نے عالمی معیشت کو نقصان پہنچایا ہے۔
دستاویز میں زیادہ افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو کم کرنے کا بھی ذکر ہے، جس میں اشارہ کیا گیا ہے کہ "میکانزم کی کم از کم حد یہ ہے کہ بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی نگرانی میں سائٹ پر افزودگی کی شرح کو کم کیا جائے"۔
اس کے علاوہ حتمی معاہدے تک پہنچنے کی صورت میں، امریکہ ایران کی معیشت کی تعمیر نو اور ترقی کے لیے 300 ارب امریکی ڈالر سے کم مالیت کا مشترکہ طور پر متفقہ حتمی منصوبہ تیار کرنے کے لیے "علاقائی شراکت داروں" کے ساتھ تعاون کرنے کا پابند ہوگا۔
-
میزائل پروگرام امریکہ سے مذاکرات کا حصہ نہیں:ایرانی وزارت خارجہ
ایران نے اعلان کیا ہے کہ اس کا بیلسٹک میزائل پروگرام امریکہ کے ساتھ ہونے والے ...
مشرق وسطی -
'احمق اور حاسد ہیں'... ایران کے ساتھ معاہدے کے ناقدین پر ٹرمپ کی نکتہ چینی
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ ابتدائی معاہدے کے ناقدین پر نکتہ چینی ...
بين الاقوامى -
ایران کو جوہری ہتھیاروں سے روکنا ناگزیر ہے:یورپی یونین
یورپی کونسل نے امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کا خیرمقدم ...
بين الاقوامى