.

لبنان: طرابلس میں جھڑپیں، ہلاکتوں کی تعداد 11 ہو گئی

اہل تشیع اور اہل سنت کے درمیان گذشتہ چار روز سے لڑائی جاری، فوج کا گشت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنان کے ساحلی شہر طرابلس میں اہل سنت اور علوی اہل تشیع کے درمیان گذشتہ چار روز سے جاری جھڑپوں میں ہلاکتوں کی تعداد گیارہ ہوگئی ہے۔

شہر میں گذشتہ جمعرات سے اہل سنت اور اہل تشیع کے درمیان کشیدگی پائی جارہی ہے اور اس کا اہل سنت کے علاقے باب التبانہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کی موٹرسائیکل سواروں کے حملے میں ہلاکت کے بعد آغاز ہوا تھا۔

رات فوج کی ایک گشتی پارٹی پر ٹینک شکن گولہ فائر کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں ایک فوجی ہلاک ہوگیا تھا۔جبل محسن اور باب التبانہ سے تعلق رکھنے والے مسلح افراد کے درمیان اس تازہ لڑائی میں کم سے کم پچاس افراد زخمی ہوئے ہیں۔

لبنانی فوج نے حالیہ جھڑپوں کے بعد شہر کے ان دونوں علاقوں سے متعدد افراد کو گرفتار کرلیا ہے اور فائرنگ کے ذرائع کے خلاف کارروائی کررہی ہے۔ہفتے کے روز نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ سے دو افراد ہلاک ہوگئے تھے اور اس سے پہلے جھڑپوں میں زخمی ہونے والے تین اور افراد اسپتال میں دم توڑ گئے تھے۔

طرابلس میں گاہے گاہے پڑوسی ملک شام کے صدر بشارالاسد اور ان کے خلاف برسرپیکار باغی جنگجوؤں کی حمایت اور مخالفت کی بنا پر لڑائی ہوتی رہتی ہے۔لبنان کے اہل سنت شام کے باغی جنگجوؤں کی حمایت کر رہے ہیں جبکہ علوی اپنے ہم مذہب صدر بشارالاسد کے حامی ہیں۔لبنان کی شیعہ تنظیم حزب اللہ شامی صدر کی حمایت میں باغیوں کے خلاف جنگ میں شریک ہے۔

شام کی سرحد سے بیس میل دور واقع اس شہر میں باب التبانة اور جبل محسن کے مکینوں کے درمیان فرقہ وارانہ بنیاد پرماضی میں بھی خونریز جھڑپیں ہوتی رہی ہیں۔اس شہرمیں اگست 2013ء میں دو بم دھماکوں میں 45 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ گذشتہ ایک سال کے دوران طرابلس میں تشدد کے واقعات میں کم سے کم ڈیڑھ سو افراد مارے جا چکے ہیں۔

یادرہے کہ طرابلس کی 80 فی صد آبادی اہل سنت پر مشتمل ہے۔شیعہ علویوں کی تعداد 11 فی صد ہے۔ان دونوں کے درمیان 1975ء سے 1990 تک جاری رہی خانہ جنگی کے دوران خونریز جھڑپیں ہوئی تھیں لیکن شام میں مارچ 2011ء سے جاری خانہ جنگی کے بعد سے ان دونوں متحارب گروہوں کے درمیان وقفے وقفے سے مسلح تصادم کی اطلاعات سامنے آتی رہتی ہیں۔