.

شامی کیمیائی ہتھیار، ڈیڈ لائن کے مطابق تلفی غیر ممکن

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل نے سلامتی کونسل کو آگاہ کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کے لیے مقرر کی گئی 30 جون کی ڈیڈ لائن پوری نہیں ہو پائے گی۔ اقوام متحدہ کی طرف سے شام میں کلورین گیس کے استعمال پر بھی اظہار تشویش کیا گیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون کے مطابق ''شامی کیمیائی ہتھیاروں کی بین الاقوامی معائنہ کاروں کو حوالگی کے لیے 27 اپریل کی ڈیڈ لائن مقرر کی گئی تھی، لیکن یہ ڈیڈ لائن بھی پوری نہیں کی گئی کہ ابھی تک آٹھ فیصد کیمیائی ہتھیار شام نے عالمی معائنہ کرواں حوالے نہیں کیے ہیں۔ ''

واضح رہے اقوام متحدہ کی تائید سے امریکا اور روس نے پچھلے سال شام کے کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کے لیے ایک معاہدے پر اتفاق کیا تھا۔ جس کے تحت تمام کیمیائی ہتھیار 30 جون تک تلف کیے جانا لازمی قرار پایا تھا ۔

لیکن بان کی مون کی طرف سے سلامتی کونسل کو رواں ماہ 23 مئی کو لکھے گئے خط میں یہ نشاندہی کی گئی ہے کہ 30 جون کی ڈیڈ لائن پوری ہونا مشکل ہو گیا ہے۔

بان کی مون نے خط میں لکھا ہے کہ ''اب یہ صاف لگ رہا ہے کہ شام کے کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کے لیے کوششیں 30 جون کے بعد بھی جاری رہیں گی۔''

سیکرٹری جنرل نے لکھا ہے کہ '' عرب جمہوریہ کے کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کے لیے محدود مدت کے تعین کی کوششیں جاری رہیں گی، تاکہ اس دوران تلفی کا باقی ماندہ کام مکمل کیا جا سکے۔''

سلامتی کونسل کے نام خط میں یہ بھی لکھا گیا ہے کہ '' ایسا مناسب وقت درکار ہے کہ او پی سی ڈبلیو بعد کی تمام چیزوں کو بھی دیکھ سکے اور اس طے شدہ مدت کے بعد بھی کیمائی ہتھیاروں کی تصدیق کا عمل جاری رہے۔''

بان کی مون نے شام میں کلورین گیس کے استعمال کیے جانے کے مبینہ واقعات پر بھی تشویش ظاہر کی اور حکومت کے ساتھ ساتھ اپوزیشن سے کلورین گیس سے متعلق حقائق تک پہنچنے میں تعاون کیلیے کہا ہے۔

دوسری جانب شامی حکام کا کہنا ہے کہ سکیورٹی کی صورتحال کی وجہ سے بقیہ کیمیائی ہتھیاروں کو منتقل نہیں کر سکتے ہیں۔ اگرچہ معاہدے کے مطابق شامی حکومت کو تمام تر ہتھیار 27 اپریل تک بین الاقوامی ماہرین کے حوالے کر دینا تھے۔