ایران اپنے موقف سے پیچھے ہٹ گیا، مذاکرات کے لیے وفد آج اسلام آباد بھیجے گا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 5 منٹ

ایران کے ساتھ امن مذاکرات کے نئے دور کے لیے امریکی وفد کے پاکستان روانہ ہونے کے بعد ایرانی میڈیا نے اپنے موقف سے رجوع کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ تہران کا وفد کل بروز منگل اسلام آباد روانہ ہوگا۔

یہ اعلان ان گذشتہ بیانات کے مقابلے میں لہجے میں واضح تبدیلی کو ظاہر کر رہا ہے جن میں شرکت کو مسترد کر دیا گیا تھا اور امریکی ناکہ بندی کا جواب دینے کا عہد کیا گیا تھا۔ اسی طرح ایک پاکستانی ذریعے نے "العربیہ/الحدث" کو بتایا ہے کہ ہمیں منگل کی صبح ایرانی وفد کی اسلام آباد آمد کی توقع ہے۔

ایک سینئر پاکستانی سرکاری عہدیدار نے "رائٹرز" کو بتایا کہ اسلام آباد کو ایران کو امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں شرکت پر قائل کرنے کی اپنی صلاحیت پر پر اعتماد ہے۔

معاملات غیر مستحکم ہیں

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر پاکستانی ذریعے نے مزید کہا کہ ہمیں ایران کی جانب سے مثبت اشارہ ملا ہے، معاملات اب بھی غیر مستحکم ہیں، لیکن ہم اس بات کو یقینی بنانے کے لیے سخت کوشش کر رہے ہیں کہ وہ کل یا پرسوں مذاکرات کے آغاز پر موجود ہوں۔ ذریعے نے بتایا کہ پاکستان تہران اور واشنگٹن کے ساتھ مؤثر طریقے سے رابطے میں ہے کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے جنگ بندی کے لیے مقرر کردہ 22 اپریل کی آخری تاریخ قریب آ رہی ہے۔

ایک اعلیٰ ایرانی ذریعے نے بھی پیر کے روز "رائٹرز" کو بتایا کہ تہران پاکستان میں امریکہ کے ساتھ امن مذاکرات میں شرکت پر غور کر رہا ہے لیکن ابھی تک کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا ہے۔ ایرانی عہدیدار نے کہا کہ پاکستان جو کہ ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، امریکی ناکہ بندی کے خاتمے اور ایران کی شرکت کو یقینی بنانے کے لیے مثبت کوششیں کر رہا ہے۔

سکیورٹی انتظامات

یہ پیش رفت اس وقت سامنے آئی جب پاکستانی وزارت داخلہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ اس نے ایرانی اور امریکی فریقین کے درمیان مذاکرات کے دوسرے دور کے لیے تمام سکیورٹی انتظامات مکمل کر لیے ہیں۔ پاکستانی وزارت داخلہ نے کہا کہ پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی نے ایرانی سفیر رضا امیری مقدم کے ساتھ مذاکرات کے دوسرے مرحلے کے انتظامات پر تبادلہ خیال کیا ہے۔

توقع کی جارہی ہے کہ امریکی وفد کی قیادت نائب صدر جے ڈی وینس کریں گے۔ انہوں نے 11 اپریل کو بھی ایرانی وفد کے ساتھ براہ راست مذاکرات کے لیے مذاکراتی ٹیم کی سربراہی کی تھی۔ ایرانی وفد کی قیادت پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے تھے تاہم وہ مذاکرات کسی معاہدے پر ختم نہیں ہو سکے تھے۔ جہاں تک ایرانی فریق کا تعلق ہے تو ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کو اس بات کی تصدیق کی تھی کہ ان کے ملک کے موجودہ ایجنڈے میں امریکی فریق سے ملاقات کے لیے پاکستان میں مذاکرات کار بھیجنا شامل نہیں ہے۔

امریکہ کو امید تھی کہ دو ہفتوں کی جنگ بندی کے ختم ہونے سے پہلے پاکستان میں دوبارہ مذاکرات شروع ہو جائیں گے۔ دوسری طرف پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد میں بڑے پیمانے پر سکیورٹی انتظامات کیے جا رہے ہیں۔ ایک پاکستانی سکیورٹی ذریعے نے بتایا کہ آرمی چیف سید عاصم منیر نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو بتایا ہے کہ ناکہ بندی مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ہے اور ٹرمپ نے جواب میں کہا ہے کہ وہ اس مشورے کو مدنظر رکھیں گے۔ ٹرمپ نے سات اپریل کو ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا تھا اور اس جنگ بندی کے خاتمے کی کوئی درست تاریخ متعین نہیں کی تھی۔

مہلت ختم ہونے کا وقت

مذاکرات میں شریک ایک پاکستانی ذریعے نے بتایا کہ جنگ بندی کل منگل کو امریکی مشرقی وقت کے مطابق رات آٹھ بجے ختم ہو جائے گی۔ گرین وچ وقت کے مطابق منگل اور بدھ کی درمیانی شب بارہ بجے اور ایران میں بدھ کی صبح 3:30 بجے جنگ بندی ختم ہوگی۔ ٹرمپ نے ہفتے کے آغاز میں جنگ بندی میں توسیع کے امکان سے متعلق ایک سوال کے جواب میں کہا تھا کہ میں نہیں جانتا۔ شاید نہیں۔ شاید میں اس میں توسیع نہیں کروں گا۔ لیکن ناکہ بندی برقرار رہے گی۔

واضح رہے امریکہ نے ایرانی بندرگاہوں کا محاصرہ جاری رکھا ہوا ہے، ایران نے آبنائے ہرمز کے ذریعے بحری آمد و رفت پر عائد کردہ محاصرہ پہلے ہٹا لیا تھا اور پھر اسے دوبارہ بند کر دیا ہے۔ عام طور پر دنیا بھر کی تیل اور مائع قدرتی گیس کی سپلائی کا تقریباً پانچواں حصہ اس آبنائے سے گزرتا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں