5000 ہزار ریال میں 39 سعودی جوڑوں کی اجتماعی شادی
'وٹس آپ' نے نوجوان کی تجویز کو تحریک بنا دیا
ہر شخص اپنی شادی کو دھوم دھام سے منعقد کرنے کے ساتھ ساتھ اسے یادگار بنانے کی خواہش رکھتا ہے اور اسی کوشش میں وہ نہ چاہتے ہوئے بھی بھاری رقوم بھی شادی بیاہ کی رسومات پر پھونک دیتا ہے۔ لیکن سعودی عرب کے ایک نوجوان نے منفرد انداز میں شادی کو یادگار بنانے کی قابل قدر کوشش کی۔ 'کم خرچ بالا نشین' کے مصداق اس کی اس منفرد کاوش سے شادی بھی یادگار رہی اور اس پر زیادہ اخراجات بھی نہیں آئے۔ بس صرف پانچ ہزار ریال وہ دلہن بیاہ لایا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یہ منفرد تخیل سعودی عرب کے شہر جازان کے جزیرہ فرسان سے تعلق رکھنے والے نوجوان یحیٰی مساوی کے ذہن میں پیدا ہوا۔ اخبار 'الوطن' کو دیے گئے اپنے انٹرویو میں یحیٰ نے بتایا کہ رواں موسم گرماں میں میری شادی خانہ آبادی طے پائی تھی لیکن اسے منفرد بنانےکے ساتھ کم سے کم اخراجات پر غور کر رہا تھا۔
میرے ذہن میں یہ خیال آیا کہ کیوں نہ شادی کے خواہاں دوسرے دوستوں کو بھی انہی دنوں بارات لانے کا کہوں جب میری شادی ہونا قرار پائی ہے۔ دو دیگر دوستوں محمد مغلس اور ابراہیم الفرسانی کی شادیاں بھی انہی دنوں میں ہونا تھیں۔ میں نے دونوں کے سامنے اجتماعی شادی کی تجویز رکھی۔ انہیں میری تجویز پسند آئی۔ ہم تینوں نے مل کر مزید ایسے نوجوانوں کی تلاش شروع کی اور دوڑ دھوپ کے بعد یہ تعداد بڑھ کر گیارہ ہو گئی۔
یحییٰ کا کہنا ہے کہ ہم نے اجتماعی شادی کے گروپ میں مزید اضافے کے لیے کوششیں جاری رکھیں۔ اس ضمن میں 'وٹس آپ' ایپلی کیشن پر بھی اپنا پیغام چھوڑا تاکہ سوشل میڈیا کے ذریعے بھی نوجوانوں کو اپنے ساتھ ملایا جائے۔ 'وٹس آپ' پر پیغام کے نہایت مثبت نتائج سامنے آئے اور چند ہفتوں میں تعداد 39 تک جا پہنچی۔
چونکہ اجتماعی شادی کی تجویز کو قبول کرنے والے دوسرے تمام افراد بھی جزیرہ فرسان سے تعلق رکھتے تھے اس لیے علاقے کی قربت نے ہمیں اس تجویز کو عملی شکل دینے میں آسانی پیدا کی۔ تاہم شادی کی تاریخ سوچ بچار کے بعد آٹھ جمادی الثانی مقرر کی گئی۔ ہم نے شادی کے اخراجات کم سے کم رکھنے کے لیے باہم مشاورت کی اور یہ طے پایا کہ ہر دلہا پانچ پانچ ہزار ریال جمع کرائے گا۔
یحییٰ کا کہنا تھا کہ سعودی عرب میں عموماً شادی پر کم سے کم 60 ہزار ریال تک اخراجات اٹھتے ہیں لیکن انتالیس جوڑوں نے صرف پانچ پانچ ہزار ریال سے شادی کی بہترین تقریب منعقد کی، جسے بڑے پیمانے پر سراہا گیا ہے۔
اجتماعی شادی کی تقریب میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہونے والے یحیٰی کے ساتھی ابراہیم الفرسانی نے کہا کہ ان کی شادی کی خوبصورت بات یہ ہے کہ ان پر اخراجات کا بوجھ نہایت کم رہا ہے ورنہ مہر کی رقم سمیت ایک شادی پر ایک لاکھ 80 ہزار ریال تک اخراجات ہو جاتے ہیں۔
خیال رہے کہ فرسان کے علاقے میں علماء اور قبائلی عمائدین نے شادی کے اخراجات کی ایک حد مقرر کر رکھی ہے۔ لڑکی کے لیے زیادہ سے زیادہ حق مہر پچاس ہزار ریال مقرر ہیں اور دلہا شادی کی دیگر ضروریات پر بھی پچاس ہزار ریال سے زیادہ خرچ نہیں کر سکتا ہے۔
-
جدہ میں سعودی نوجوان جوڑے کی غیر روایتی شادی
ٹریڈ سینٹر کا افتتاح، سعودی نوجوان کا بیاہ
بين الاقوامى -
یو اے ای کے تعاون سے غزہ میں 400 جوڑوں کی اجتماعی شادی کی تقریب
تقریب میں تمام فلسطینی گروپوں نے شرکت کی
مشرق وسطی -
دبئی میں اجتماعی شادیوں کے ذریعے خاندانی استحکام کی منفرد کوشش
امسال مئی میں 80 جوڑوں کی اجتماعی شادی کی تیاری
ایڈیٹر کی پسند -
سعودی عرب میں دو ریال 'حق مہر' کے بدلے شادی کا فریضہ انجام
بنی ثابت قبیلے کا کم سے کم 'حق مہر' لینے کی روایت پر اظہار تفاخر
بين الاقوامى -
سعودی عرب :شادی کا تربیتی پروگرام متعارف کرانے کا اعلان
سعودی حکومت نے مملکت میں طلاق کی بڑھتی ہوئی شرح کو کم کرنے کے لیے شادی کا ایک ...
ایڈیٹر کی پسند -
سعودی عرب میں شادی سے پہلے ذہنی مطابقت کا ٹیسٹ
'کفاء ٹیسٹ' کامیاب ازدواجی زندگی کی ضرورت بن رہا ہے
بين الاقوامى