'ججوں کی توہین' کے الزام میں کویتی اپوزیشن رہنما گرفتار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

کویتی اپوزیشن رہنما مسلم البراک کو عدلیہ کی توہین کے الزام میں پوچھ تاچھ کی غرض سے حفاظتی تحویل میں لیے جانے پر حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے دسیوں کارکنوں نے پولیس ہیڈکوارٹرز کے باہر احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔ اپوزیشن نے کویت سٹی میں بڑے احتجاجی مظاہرے کی کال بھی دے رکھی ہے۔

حکومت مخالف سابق رکن کویتی پارلیمان کے وکیل محمد الجاسم نے بتایا کہ ان کے مٶکل سے سپریم جوڈیشل کونسل اور اس کے صدر نشین فیصل المرشد کے بارے میں اہانت آمیز گفتگو سے متعلق گذشتہ رات پوچھ تاچھ کی گئی۔

دس جون کو ایک ریلی سے خطاب کرتے ہوئے مسلم براک نے جوڈیشل کونسل اور اس کے صدر نشین المرشد کے خلاف جارحانہ تقریر کی تھی۔

اپوزیشن رہنما نے دعوی کیا تھا کہ اعلی حکومتی عہدیدار بشمول حکمران خاندان کے افراد نے سرکاری خزانے سے دسیوں ارب ڈالر چرا کر کالے دھن کو سفید بنانے کی کوشش کی۔

مسلم براک نے عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے الزام عاید کیا کہ سابق عمال نے اسرائیل سمیت متعدد غیر ملکی بینکوں میں لوٹا ہوا مال جمع کرایا ہے۔ اس اسکینڈل کے ڈانڈے بعد میں اس ویڈیو فوٹیج سے جوڑنے کی کوشش کی گئی جس میں کچھ پردہ نشین تختہ الٹنے کی سازش میں ملوث پائے گئے۔

یہ الزامات سابق وزیر توانائی اور حکمران خاندان کے معزز رکن شیخ احمد فھد الصباح نے ایک مقدمے میں لگائے تھے۔ ان دعووں کی وجہ سے تیل کی دولت سے مالا خلیجی ریاست سیاسی بحران میں گھر گئی اور اسے دیکھتے ہوئے امیر کویت کو خود پرسکون رہنے کی کال دیتے ہوئے معاملات عدالت کے سپرد کرنے کی ہدایت دینا پڑی۔

اس جواب سے پہلے مسلم براک کا کہنا تھا کہ پبلک پراسیکیوٹر غیر جانبدار نہیں کیونکہ وہ خود جوڈیشل کونسل کا حصہ ہیں، جس نے ان کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پبلک پراسیکیوٹر کو مقدمہ ان سابقہ عمال کے خلاف شروع کرنا چاہئے تھا کہ جنہوں نے تختہ الٹنے کی مبینہ کارروائی کی کوشش کی اور رقم چوری کی۔

یاد رہے کہ کویت کی پارلیمنٹ میں حکومت مخالف اپوزیشن ارکان کی زیادہ نمائندگی نہیں ہے کیونکہ ان کی بڑی اکثریت نے گذشتہ برس جولائی میں ہونے والے الیکشن میں انتخابی قوانین میں کرائی جانے والی ترامیم پر بطور احتجاج شرکت نہیں کی۔

تیل برآمد کرنے والے ملکوں کی تنظیم 'اوپیک' کے اہم رکن ملک کویت نے سنہ دو ہزار چھے سے لیکر گذشتہ برس انتہائی مشکل سیاسی حالات کا سامنا کیا ہے۔ اسی مدت میں کئی درجن حکومتیں تشکیل پائیں اور منتخب ایوان چھے مرتبہ تحلیل کیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں