ایران، سعودی عرب کے مابین بہتر تعلقات چاہتے ہیں: روحانی
"بشار الاسد کو اپنے ملک پر حملہ قبول نہیں کرنا چاہیے تھا"
اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی نے کہا ہے کہ وہ اختلافات کے باوجود سعودی عرب سے اچھے تعلقات کے خواہاں ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق نیویارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت سے قبل صحافیوں کے ایک وفد سے گفتگو کرتےہوئے ایرانی صدر نے کہا کہ ایران اور سعودی عرب کے درمیان تعلقات کی بہتری وقت کی اہم ضرورت ہے۔ دونوں مسلمان ملکوں کے عالمی مسائل اور دیرینہ تنازعات میں موقف میں بھی کافی حد تک ہم آہنگی موجود ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ اختلافات کے بادل چھٹتے ہی سعودی عرب کے ساتھ ایران کے تعلقات مزید مستحکم ہوتے جائیں گے۔
ایک سوال کے جواب میں ایرانی صدر کا کہنا تھا کہ نیویارک میں جنرل اسمبلی کے اجلاسوں میں شرکت کے دوران وہ اپنے امریکی ہم منصب باراک اوبا سے ملاقات نہیں کریںگے۔
درایں اثناء ایرانی صدر حسن روحانی نے شام میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامی "داعش" کے خلاف امریکا اور اس کے اتحادیوں کے فضائی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے شامی صدر بشار الاسد کو بھی آڑے ہاتھوں لیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ صدر بشار الاسد کو اپنی سر زمین پر غیر ملکی افواج کے حملوں کو کسی قیمت پر قبول نہیں کرنا چاہیے تھا۔
ادھر شام کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے صدر بشار الاسد کا بھی ایک بیان نقل کیا ہے، جس میں ان کا کہنا ہے کہ دمشق دہشت گردی کے خلاف جنگ میں عالمی برادی کے ساتھ ہے۔ شامی ٹی وی کے مطابق صدر بشارالاسد نے عراقی وزیر اعظم حیدر العبادی کی جانب سے بھیجے گئے ایک خصوصی وفد سے بھی ملاقات کی۔ عراقی سفارتی مشن نے شامی صدر کو داعش کے خلاف عالمی جنگ کے بارے میں بریفنگ بھی دی۔