داعش اور القاعدہ کے اتحاد کا خطرہ نہیں: جیمز کلیپر
دونوں کے اختلافات کی خلیج گہری ہے، تجزیہ کار بھی تصدیق نہیں کرتے
امریکی قومی سلامتی کے ڈائریکٹر جیمز کلیپر نے شام میں داعش اور القاعدہ کے درمیان کسی معاہدے کی اطلاعات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ہمارے تجزیہ کاروں نے فی الوقت ان خبروں کی تصدیق نہیں کی نہ ہی وہ ابھی ایسی کسی بات سے باخبر ہیں۔
قومی سلامتی کے ذمہ دار کا یہ بھی کہنا ہے کہ'' داعش اور النصرہ فرنٹ کے درمیان اختلافات کی خلیج بہت گہری ہے اس لیے ہم ایسا کچھ نہیں دیکھتے ہیں۔ ''
جیمز کلیپر نے مزید کہا داعش اور القاعدہ کے درمیان کسی خاص علاقے، موقع یا صورت حال کے باعث وقتی تعاون کے حکمت عملی اختیار کرنا تو ممکن ہے کہ مقامی سطح پر موجود ان کے لوگوں نے ایسا کیا ہو لیکن وسیع پیمانے پر ایسا ہو سکنے کا امکان میں نہیں دیکھتا ہوں، کم از کم ابھی تک اتحاد نہیں ہوا۔
ایک معروف امریکی روزنامے نے اپنی اشاعت میں القاعدہ سے منسلک ایک عسکری گروپ ''خراسان'' جسے امریکی بمباری کا بار بار نشانہ بنایا گیا ہے کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ یہ گروپ داعش اور النصرہ فرنٹ کے درمیان اتحاد کرانے کی کوشش کر رہا ہے۔
عسکری ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا گیا ہے کہ ''خراسان '' ان دنوں اپنے لیے دونوں عسکری گروپوں کے درمیان اختلافات ختم کرانے اور انہیں باہم متحد کرنے کا کردار لیے ہوئے ہے۔
امریکی حکام نے اس شائع کی گئی رپورٹ کے بارے میں شکوک ظاہر کیے ہیں۔ اوباما انتظامیہ کے ایک سابق ذمہ دار نے کہا میرے لیے ماننا مشکل ہے کہ داعش اور النصرہ فرنٹ اپنے اختلافات کا خاتمہ کر سکیں گی، ان کے اختلافات بہت زیادہ ہیں۔