1500امریکی فوجیوں کی جلد عراق میں تعیناتی کا فیصلہ
امریکی وزارت دفاع نے پینٹاگان نے کہا ہے کہ عراق میں امن وامان کے قیام میں عراقی فورسز کی مشاورت کے لیے صدر براک اوباما کے اعلان کے مطابق 1500 فوجی پیش آئندہ چند ہفتوں میں عراق میں تعینات کر دیے جائیں گے۔
خیال رہے کہ امریکی صدر براک اوباما نے چند روز قبل عراق میں اپنے فوجیوں کی تعداد دوگنا کرنے کا اعلان کا اعلان کیا تھا تاہم انہوں نے وضاحت کی تھی امریکی فوجی جنگ میں براہ راست حصہ نہیں لیں گے بلکہ وہ دولت اسلامی "داعش" کے خلاف جنگ میں عراقی فورسز کی تربیت اور مشاورت میں معاونت کریں گے۔
امریکی محکمہ دفاع کے ترجمان ایڈمرل جون کیربی نے بتایا کہ جلد ہی امریکی فوج کے ڈیڑھ ہزار اہلکار عراق روانہ کر دیے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ عراق میں مزید فوجی کمک بھجوانے کے لیے کانگریس سے منظوری لی جائے گی۔
یاد رہے کہ امریکا کی قیادت میں عالمی اتحادی فورسز نے 08 اگست سے عراق کے نیم خود مختار کرد صوبہ کردستان میں پیش قدمی والی دہشت گرد گروپ داعش کے خلاف حملوں کا اعلان کیا تھا۔ ستمبر میں داعش کے خلاف امریکا اور اتحادیوں کے حملے عراق سے باہر شام میں بھی کیے گئے۔ مبصرین کے خیال میں اتحادیوں کے فضائی حملے داعش کی پیش قدمی روکنے میں زیادہ موثر ثابت نہیں ہو سکے ہیں۔
-
عراق اور ترکی داعش کے خلاف تعاون پر متفق
عراق کے وزیراعظم حیدرالعبادی نے کہا ہے کہ ان کے ملک اور ترکی نے دولت اسلامیہ عراق ...
مشرق وسطی -
امریکا نے عراقی اور کرد فورس کی تربیت شروع کر دی
آج جنرل ڈیمپسی اور جنرل آسٹن عراق پر مشاورت کریں گے
بين الاقوامى -
عراق: داعش کے خلاف خواتین کی مسلح تنظیم کا قیام
عراق میں جہاں شدت پسند گروپ دولت اسلامی نے عراقی فوج کے چھکے چھڑا دیے ہیں وہاں ...
مشرق وسطی