برطانیہ: "اسلامک ریلیف" کا فلسطینیوں کی مدد کا فیصلہ

اسرائیل نے خیراتی ادارے کو بھی دہشت گرد قرار دے رکھا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

برطانیہ میں قائم مسلمانوں کے سب سے بڑے خیراتی ادارے "اسلامک ریلیف" نے فلسطینیوں کے لیے از سر نو ریلیف کی سرگرمیاں شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ فیصلہ اس کے باوجود کیا گیا ہے کہ اسرائیل نے اس بین الاقوامی ادارے کو ایک دہشت گرد تنظیم کا نام دے رکھا ہے۔

"اسلامک ریلیف" پچھلے سال کے دوران فلسطینی عوام کے لیے 172 ملین پاونڈ مالیت کا ریلیف اور بحالی کا کام کرچکی ہے۔ لیکن غزہ پر مسلط کردہ پچاس روزہ جالیہ اسرائیلی جنگ کے باعث ہونے والی غیر معمولی تباہی کے بعد اس ادارے نے از سر نو فلسطینیوں کی مدد کا فیصلہ کیا ہے۔

اسلامک ریلیف دنیا 44 ملکوں میں ریلیف کی سرگرمیوں کے لیے موجود ہے اور ہر جگہ اس کی خدمات کو سراہا جاتا ہے کہ یہ انسانی بنیادوں پر متاثرین سیلاب، متاثرین زلزلہ، متاثرین قحط اور جنگ زدہ بے گھروں کی مدد کرتی ہے۔

لیکن فلسطییوں کی امداد کرنے پر اسرائیل نے اسے بھی ایک دہشت گرد تنطیم قرار دے دیا ہے۔ تاہم اسرائیل واحد ملک ہے جس نے ریلیف کے اس عالمی ادارے پر اس نوعیت کا الزام عاید کیا ہے۔

اسلامک ریلیف کے چیف ایگزیکٹو محمد اشماوے نے اسرائیلی الزام کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ادارے نے اپنے 2500 کارکنوں کے کوائف اور رابطوں کو کھنگالا ہے تاکہ اگر کوئی ایسے عناصر ادارے میں ہوں تو ان کا پتہ چلایا جاسکے۔

"اس ساری مشق کے دوران ایک کارکن کے بارے میں صرف یہ بات سامنے آئی کہ اپنے دور طالبعلمی میں وہ غزہ یونیورسٹی میں ہوتے ہوئے ایسے لوگوں سے رابطے میں رہا تھا جنہیں اسرائیل دہشت گرد سمجھتا ہے، ایک اس کارکن کے علاوہ 2500 میں سے کسی اورکارکن کا پس منظر میں بھی کوئی مشکوک بات سامنے نہیں ائی ہے۔"

اسلامک ریلیف کے سربراہ نے مزید کہا "اپنے کارکنوں کے کوائف کا جائزہ لینے کے لیے ادارے نے اپنے انٹیلی جنس کے شعبے کے علاوہ ماہرین کی خدمات بھی حاصل کیں تاکہ کوئی ایسا کارکن نظر انداز نہ ہو جائے جس کا کردار مشکوک ہو، اس دوران ایسا کچھ سامنے نہیں آیا۔"

اسرائیل کے ایک ترجمان کا اس بارے میں کہنا ہے "ہمارا موقف اب بھی وہی ہے جو پہلے تھا۔'' اسرائیلی ترجمان کے مطابق "اسرائیلی حکومت کی طرف سے اسلامک ریلیف کو دہشت گرد قرار دیے جانا حماس کی دہشت گردانہ سرمیوں کو کچلنے کے عزم کا حصہ ہے۔"

واضح رہے مغربی کنارے میں اسلامک ریلیف کے قائم کیے گئے دفتر کو اسرائیلی سکیورٹی اداروں نے مقفل کر دیا تھا اور دفتر میں موجود کمپیوٹرز اور فائلیں قبضے میں لے لی تھیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں