.

یہودیوں کی اجارہ داری، فلسطینی قصبہ پانی کی نعمت محروم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں بسائے گئے یہودی آباد کاروں کے باعث فلسطینیوں کی زندگی اجیرن ہو کر رہ گئی ہے۔ یہودی آباد کار نا صرف فلسطینیوں کی املاک پر حملے کر کے انہیں نقصان پہنچاتے ہیں بلکہ فلسطینیوں کے حصے کا پانی تک انہیں دینے کے روادار نہیں ہیں۔

العربیہ ٹی وی کی ایک رپورٹ کے مطابق مغربی کنارے کے جنوب میں واقع الجبعہ نامی فلسطینی قصبے کے سیکڑوں مکین پچھلے تین ہفتوں سے پانی جیسی بنیادی ضرورت سے محروم ہیں۔ فلسطینیوں کو پانی کی عدم دستیابی کی وجہ اسرائیلی انتظامیہ کی جانب سے پانی کی غیر منصفانہ تقسیم ہے۔ صہیونی انتطامیہ نے علاقے کے پانی کے بیشتر ذخائر"گوش عتصیون" نامی یہودی کالونی کو دے رکھے ہیں اور فلسطینی آبادی کے حصے کا پانی بھی یہودی حاصل کررہے ہیں۔ جس کے نتیجے میں فلسطینی پانی سے محروم ہوگئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق الجبعہ نامی یہ قصبہ بیت لحم میں یہودی کالونی کے وسط میں واقع ہے اور اس قصبے کی بیشتر اراضی یہودی کالونی کی توسیع کے لیے غصب کی جا چکی ہے۔ قصبے کی اکلوتی مسجد پر یہودی شرپسند کئی بارحملے کرکے اسے نقصان پہنچا چکے ہیں۔ ایک بار آگ لگا کر مسجد کا بڑا حصہ نذرآتش کردیا گیا تھا۔ یہودی آباد کار آئے روز فلسطینیوں کے زیتون کے باغات پرحملے کرتے، ان کی املاک کو تباہ کرتے اور قصبے کے مکینوں کا پانی بند کردیتے ہیں۔

گرمیوں کا موسم آتے ہی مغربی کنارے میں پانی کی کھپت بڑھ جاتی ہے تو ساتھ ہی فلسطینیوں کو فراہم کردہ پانی کے حصے سے بھی محروم کردیا جاتا ہے۔ اسرائیلی انتظامیہ کی پانی کی غیر منصفانہ تقسیم کا اندازہ اس امر سے لگایا جاسکتا ہے کہ یہودی آباد کاروں کو فلسطینیوں کی نسبت سات گنا زیادہ پانی ملتا ہے۔