شرم الشیخ کے قُلیوں نے مسافروں کے سامان میں بم رکھا؟
چار ہزار برطانوی سیاحوں کی مصر سے واپسی
ایک ہفتہ قبل مصر کے جزیرہ نما سینا میں حادثےکا شکار ہونے والے طیارے کے حادثے کے اسباب کی تحقیقات جاری ہیں مگر یہ امکان بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ مسافر جہاز کے اندر رکھے گئے بم کے دھماکے سے تباہ ہوا ہے۔ کچھ لوگ یہ استفسار کرتے ہیں کہ اگر شرم الشیخ ہوائی اڈے کا سیکیورٹی عملہ متحرک تھا تو کیا کسی مسافر کے سامان میں بم سامان اٹھانے والے قلیوں کی کارستانی ہو سکتی ہے؟۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اس وقت روسی مسافر بردار جہاز "ایئر بس E 321" کے حادثے کے بارے میں قیاس آرائیوں اور افواہوں کی بھرمار ہے۔ امریکی اور برطانوی انٹیلی جنس ماہرین نے کہا ہے کہ امکان ہے کہ طیارے کے کسی مسافر کے سامان میں قلیوں نے سامان رکھتے ہوئے بم رکھ دیا ہو جو طیارے کے 30 ہزار فٹ کی بلندی پر پہنچنے کے بعد دھماکے سے پھٹ گیا۔
انٹیلی جنس ماہرین کا خیال ہے کہ دولت اسلامی "داعش" طیارے کو تباہ کرنے کے اپنے مذموم مقصد کے لیے کوئی بھی ایسا سنگین قدم اٹھا سکتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ دہشت گردوں نے ہوائی اڈے پر مسافروں کی معاونت کرنے والے قلیوں کو بم رکھنے کے لیے استعمال کیا ہو۔ یوں کسی قلی نے مسافروں کا سامان طیارے میں رکھنے کے دوران ساتھ ہی کسی بیگ میں بم ڈال دیا ہو۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق امریکا اور برطانیہ کی خفیہ ایجنسیاں جاسوسی مصنوعی سیارے کی معاونت سے شام اور مصر کے جزیرہ نما سینا میں ہونے والے مواصلاتی رابطوں کی تلاش میں ہیں۔ سراغ رساں ادارے اس بات کا کھوج لگانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا حادثے سے قبل شام اور جزیرہ نما سینا میں ای میل یا کسی دوسرے ذریعے سے دہشت گردوں کے درمیان کسی قسم کا رابطہ ہوا ہے۔
برطانوی اخبار ٹیلی گراف کی رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ حادثے میں تباہ ہونے والے جہاز کے بعض حصوں پر ایسے سوراخ موجود ہیں جو کسی بم پھٹنے کے بعد اس کے چھروں کے ہو سکتے ہیں۔ اخبار"ٹائمز" کے مطابق برطانوی اور امریکی ماہرین کو انہی سوراخوں سے شبہ ہوا ہے کہ جہاز فنی خرابی سے نہیں بلکہ اندر رکھے گئے بم کے پھٹنے سے ہوا ہے۔
اخباری رپورٹس کے مطابق پولیس اور انٹیلی جنس حکام شرم الشیخ ہوائی اڈے کے ملازمین اور قلیوں سے بھی تفتیش جاری رکھے ہوئے ہیں۔ مصر کے دوسرے ہوائی اڈوں پر بھی سیکیورٹی سخت کرنے کے ساتھ ساتھ کچھ لوگوں کو تفتیش میں شامل کیا گیا ہے۔
برطانوی ماہرین اس امکان کو بھی رد نہیں کر رہے ہیں کہ بم روس کے اندر ہی سے طیارے میں رکھ دیا گیا ہو مگر اس کا دھماکہ مصر سے واپسی کے بعد ہوا ہو۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شرم الشیخ ہوائی اڈے پر خفیہ کیمروں کے علاوہ الٹرا ساونڈ اسکیننگ سسٹم موجود ہے جس کے ذریعے کسی بھی خطرناک چیز کا پتا لگایا جا سکتا ہے۔ ہوائی اڈے پر نصب آلات سے نہیں لگتا کہ کسی شخص نے طیارے میں بم رکھا ہوا کیونکہ لیزر اسکینر ایسی کسی بھی مشکوک شے کی فوری نشاندہی کرتے ہیں۔ ان کے ہوتے ہوئے کوئی شخص جہاز میں بم نہیں رکھ سکتا۔
امریکی صدر باراک اوباما کی جانب سے بھی یہ خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ روسی طیارے کا حادثہ اس کے اندر رکھے گئے بم دھماکے کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ صدر باراک اوباما کے ترجمان جوش ارنسٹ نے کہا کہ ابھی تک روسی طیارے کے حادثے کے قطعی اسباب سامنے نہیں آئے ہیں مگر دہشت گردی کے امکان کو رد نہیں کیا جا سکتا ہے۔
ادھر شرم الشیخ میں موجود چار ہزار برطانوی سیاحوں کو آج وہاں سے نکالا جا رہا ہے۔ اطلاعات کے مطابق شرم الشیخ میں سیاحت کے لیے آئے چار ہزار برطانوی سیاحوں کو واپس لے جانے کے لیے 25 پروازیں چلائی جا رہی ہیں۔Thomson Airways جسی بڑی برطانوی فضائی کمپنی کے چارٹر طیارے، Monarach Airline اور Easi Jet نامی فضائی کمپنیوں نے مسافروں کو لے جانے کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے۔ اس سے قبل برطانیہ کی بعض کمپنیوں نے اپنے طیاروں کی شرم الشیخ لینڈنگ روک دی تھی۔
-
روسی مسافر طیارہ دہشت گردی سے نہیں گرا: امریکا
کریش سے متعلق مصر، روس اور کمپنی کے متضاد بیانات
بين الاقوامى -
روسی وزراء مصر پہنچ گئے، بلیک باکس ملنے کی تصدیق
طیارے کی تباہی میں کسی دہشت گردی کا امکان خارج از امکان ہے: قاہرہ، ماسکو
مشرق وسطی -
مصر: تباہ شدہ روسی جہاز سے 100 لاشیں نکال لی گئیں
روسی صدر نے یکم نومبر کو ملک میں سوگ کا اعلان کر دیا، لواحقین سے تعزیت
بين الاقوامى