اسرائیل کی حزب اللہ کو سبق سکھانے کی دھمکی
صہیونی فوج اور لبنانی تنظیم کے درمیان محاذ جنگ ہونے لگا
شام میں ایک ہفتہ قبل مبینہ اسرائیلی فضائی حملے میں لبنانی شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے سرکردہ کمانڈر سمیر القنطار کی ہلاکت کے بعد دو طرفہ کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ حزب اللہ نے اپنے کمانڈر کی ہلاکت کا بدلہ لینے کی دھمکی دی ہے جب کہ اس کے جواب میں اسرائیلی فوج نے حزب اللہ کو سبق سکھانے کی دھمکیاں دینا شروع کی ہیں۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق تازہ دھمکی اسرائیلی آرمی چیف جنرل گیڈی آئزنکوٹ کی جانب سے دی گئی ہے۔ انہوں نے حزب اللہ کو خبردار کیا ہے کہ اگر اس نے صہیونی ریاست کے مفادات پر حملہ کیا تو اسے سخت سزا دی جائے گی۔
اپنے ایک بیان میں جنرل آئزنکوٹ کا کہنا تھا کہ ’’ہمارے سپاہی ہر روز مہلک دہشت گردی کے نشانے پر ہیں مگر ہم پوری جرات اور اصرار کے ساتھ اپنی سرحدوں کے دفاع میں مصروف ہیں۔ دہشت گردوں کے خطرات سے نمٹنے کے لیے ہم اپنی سرحدوں کے اندر کارروائی کے پابند نہیں بلکہ سرحدوں سے باہر بھی کارروائی کریں گے۔ اسرائیل کی شمالی سرحد غیرمحفوظ ہے اور کسی بھی وقت شمال کی جانب سے حملے کا سامنا کیا جا سکتا ہے‘‘۔
اسرائیلی آرمی چیف کا کہنا تھا کہ ہم ہر طرح کے خطرے سے نمٹنے کے لیے تیار ہیں۔ ہم نے اپنی قوت اور جنگی صلاحیتوں کے بل بوتے پر ثابت کیا ہے کہ ہم اچھی طرح جانتے ہیں کہ دشمن کو کیسے، کہاں اور کس وقت نشانہ بنانا ہے۔ ہمارے دشمن بھی جانتے ہیں کہ اسرائیل کی سلامتی پر حملے کے نتائج کتنے خطرناک ہو سکتے ہیں۔
خیال رہے کہ اسرائیلی آرمی چیف کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فوج کے ڈھانچے میں معمولی تبدیلی کرتے پیادہ فوج کی چار کمانڈو یونٹوں کو ایک بریگیڈ میں مدغم کر دیا گیا ہے۔ نئے تشکیل پانے والے یونٹ کے اہلکاروں کو حزب اللہ اور داعش کی طرف سے ممکنہ خطرات سے نمٹنے کے لیے جلد ہی اگلے مورچوں پر تعینات کیا جائے گا۔
-
ایران کی حزب اللہ کے ذریعے اسرائیل کو'سبق سکھانے' کی دھمکی
ایران نے دھمکی دی ہے کہ تہران پر حملے کی صورت میں لبنانی حلیف حزب اللہ کے ذریعے ...
بين الاقوامى -
حزب اللہ اسرائیل سے نئی جنگ نہیں چاہتی: حسن نصراللہ
صہیونی فوج کو انتباہ پر اکتفا، لیکن شیعہ ملیشیا جنگ سے خوف زدہ نہیں
مشرق وسطی -
حزب اللہ اسرائیل کے ساتھ کشیدگی بڑھانے سے گریزاں!
تنظیم نے ہمیں یونفیل کے ذریعے پیغام بھجوایا ہے: اسرائیل کا دعوی
مشرق وسطی