عراق میں مقیم ایرانی اپوزیشن کو تحفظ فراہم کرنے کا مطالبہ
عراقی خاتون رکن پارلیمنٹ کی مجاھدین خلق کی بھرپور وکالت
عراق کی ایک سرکردہ رکن پارلیمان نے حکومت پر زور دیا ہے کہ کہ وہ بغداد کے قریب قائم ’لیبرٹی‘ کیمپ میں موجود ایرانی اپوزیشن کی تنظیم ’مجاھدین خلق ‘ کو ہر ممکن تحفظ فراہم کرے۔ انہوں نے امریکی کانگریس کی جانب سے ایرانی اپوزیشن کے تحفظ کے لیے آواز بلند کرنے کے اعلان کا بھی خیرمقدم کیا اور کہا ہے کہ اس سے مجاھدین خلق کو اپنی جدو جہد کو ثمر آور کرنے میں مدد ملے گی۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عراقی رکن پارلیمنٹ نورہ سالم البجاری نے اپنے ایک بیان میں حکومت پر زور دیا کہ وہ لیبرٹی کیمپ میں موجود ایرانی اپوزیشن کے مسائل کے حل کے لیے فوری اقدامات کرے۔ انہوں نے اقوام متحدہ کو بھی اس کے فیصلوں کی یاددہانی کرائی اور کہا کہ انسانی بنیادوں پر اقوام کی جانب سے بھی عراق میں مقیم ایرانی پناہ گزینوں اور اپوزیشن کو تحفظ فراہم کرنے کا اعلان کیا گیا۔
البجاری نے امریکا اور انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں پر زور دیا کہ وہ لیبرٹی کیمپ کے مسئلے کے فوری حل کے لیے ٹھوس حکمت عملی وضع کریں، کیونکہ ملک میں امن وامان کی ابتر صورت حال کے باعث لیبرٹی کیمپ کے مکینوں کی زندگیوں کو سنگین خطرات لاحق ہیں اور بہ ظاہر ایسے لگ رہاہے کہ ایرانی اپوزیشن کو تحفظ فراہم کرنا بغداد حکومت کے بس میں نہیں رہا ہے۔ ان کا یہ بیان 'میڈیا نیوز'، اخبار'الوطن' اور 'السیاسی' میں بھی چھپا ہے۔
عراقی خاتون رکن پارلیمنٹ کا کہنا تھا کہ لیبرٹی کیمپ میں موجود ایرانی اپوزیشن کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ڈیل کیا جانا چاہیے۔ وہ پناہ گزین کی حیثیت سے عراق میں رہ رہے ہیں اور انہیں پناہ گزینوں کے لیے وضع کردہ عالمی قوانین اور ضوابط کے مطابق بنیادی حقوق فراہم کیے جائیں۔
انہوں نے کہا کہ لیبرٹی کیمپ کے مکینوں کو اگر کسی تیسرے ملک میں منتقل کیا جائے تو ان کی سلامتی کی ضمانت دی جاسکتی ہے مگر عراق میں گذشتہ برس اکتوبر کے دوران ہونے والے لیبرٹی کیمپ پرحملے کے بعد ایرانی پناہ گزینوں کو تحفظ کی ضمانت نہیں دی جاسکتی ہے۔
نورہ البجاری کا کہنا تھا کہ لیبرٹی کیمپ ک مکینوں کے لیے ہر آنے والا دن زیادہ پریشانی پیدا کررہا ہے۔ ان کی نقل وحرکت مزید محدود کردی گئی، کیمپ میں موجود افراد بنیادی ضرورت کی اشیاء کے حصول کے لیے کیمپ سے باہر نہیں جاسکتے ہیں۔ باہر سے کیمپ میں ضروری اشیاء لانے کی بھی اجازت نہیں ہے۔
جب سے عراق کے سیکیورٹی اداروں نے لیبرٹی کیمپ کے معاملات میں مداخلت کا سلسلہ شروع کیا ہے تب سے کیمپ میں رہنے والے شہری اپنی اپنی ہی املاک اپنی مرضی سے استعمال نہیں کر پا رہے ہیں۔
ادھر امریکی کانگریس کی خارجہ تعلقات کمیٹی نے پچھلے ماہ ایک قرارداد منظور کی تھی جس میں عراق میں قائم لیبرٹی کیمپ میں موجود ایرانی اپوزیشن کے حامیوں کو ہرممکن تحفظ فراہم کرنے کے لیےآواز بلند کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا تھا۔
کانگریس کی قرارداد نمبر 650 میں کہا گیا تھا کہ امریکا کی دونوں بڑی سیاسی جماعتیں متفقہ طورپر لیبرٹی کیمپ کے مکینوں کے حقوق کی جنگ لڑیں گی۔ قرارداد میں دونوں جماعتوں ڈیموکریٹس اور ری پبلیکن کے ارکان نے دستخط کیےاور کہا تھا کہ وہ کیمپ کے مکینوں کی ہرممکن مدد اور ان کے تحفظ کے لیے کام کریں گے۔ قرارداد میں ایران کی جانب سے لیبرٹی کیمپ کے مکینوں کے امور میں مبینہ مداخلت کی شدید مذمت کی گئی تھی۔
کانگریس نے لیبرٹی کیمپ کے مکینوں کے تحفظ کے لیے منظور کردہ پروگرام میں امریکی حکومت پر بھی زور دیا تھا کہ وہ ایرانی اپوزیشن پر مشتمل اس کیمپ کو کسی بھی اندرونی اور بیرونی حملے سے تحفظ فراہم کرنے کے لیے اپنی ذمہ داریاں پوری کرے۔
خیال رہے کہ پچھلے سال لیبرٹی کیمپ پر کاتیوشا راکٹوں سے حملے کیے گئے جن کے نتیجے میں کیمپ میں موجود دسیوں افراد ہلاک اور زخمی ہوگئے تھے۔ ایران نواز عسکریت پسند گروپوں نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
عراق میں ایرانی اپوزیشن کے 2000 افراد
خیال رہے کہ عراق میں قائم لیبرٹی پناہ گزین کیمپ میں ایرانی رجیم کی مخالف تنظیم مجاھدین خلق سے وابستہ 2000 افراد مقیم ہیں۔ اقوام متحدہ کی جانب سے اس کیمپ کو باقاعدہ پناہ گزین قرار دے رکھا ہے۔ کیمپ کے مکینوں نے متعدد بار کیمپ کا محاصرہ ختم کرنے کے لیےاحتجاجی مظاہرے بھی کیے مگر بغداد حکومت کی طرف سے محاصرہ ختم کرنے کے لیے خاطر خواہ اقدامات نہیں کیے گئے ہیں۔
عراقی فوج کے سخت محاصرے میں گھرے اس کیمپ کے اندر خوراک اور ادویہ کی شدید قلت پائی جا رہی ہے اور کیمپ کے مکینوں کو بنیادی اشیاء کے حصول میں بھی مشکلات کا سامنا ہے۔
گذشتہ برس 29 اکتوبر کو اس کیمپ پر راکٹوں سے حملہ کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں 24 افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے تھے۔ عراق میں موجود ایران نواز شیعہ ملیشیا نے ان حملوں کی ذمہ داری قبول کی تھی۔
-
القدس فورس کے چمکتے ستارے ''حجازی اینڈ سن'' سے ملیے
کیا آپ ایران کی پرپیچ سراغرساں قیادت اور اس کے کام کے بارے میں جانتے ہیں؟اگر نہیں ...
ایڈیٹر کی پسند -
ایران : سعودی سفارت خانہ کیس ، ذمہ داروں کے خلاف کارروائی میں ٹال مٹول
ایرانی عدلیہ کے ترجمان غلام حسين محسنی ايجئی نے اعلان کیا ہے کہ ان کا ملک تہران ...
مشرق وسطی -
کینیڈا کی جانب سے مالی اثاثوں کی ضبطی پر ایران کی مذمت
ایران کی جانب سے کینیڈا کی عدالت کے اُس فیصلے کی بھرپور مذمت کی گئی ہے، جس کے ...
بين الاقوامى