سعودی عرب کا پرچم سرنگوں کیوں نہیں کیا جاتا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

کسی بھی بڑے حادثے یا آفت کے پیش آنے پر پرچموں کا سرنگوں کیا جانا دنیا کے تمام ممالک میں ایک رواجی انداز ہے جہاں سفارت خانوں میں پرچم کو سرنگوں کیا جاتا ہے اور تمام حکومتی دفاتر اور مراکز میں سوگ کا اعلان کیا جاتا ہے۔ تاہم دنیا میں ایک ملک ایسا بھی ہے جس کا پرچم سرنگوں نہیں کیا جاتا اور اس ملک کا نام مملکت سعودی عرب ہے۔

سعودی عرب ہمیشہ اپنے پرچم کو بلندی پر لہراتا رکھتا ہے اور کبھی سرنگوں نہیں کرتا۔ پرچم پر " لا الہ الا الله محمد رسول الله" کی عبارت تحریر ہے۔ اس جملے کے احترام میں یہ پرچم سرنگوں نہیں کیا جاتا کیوں کہ یہ دین اسلام میں ایمان کی دو شہادتوں (گواہیوں) پر مشتمل ہے۔

اگرچہ مملکت کے بانی شاہ عبدالعزیز آل سعود کی وفات پر سعودی شہریوں سمیت کروڑوں عرب باشندوں کے دلوں کو شدید رنج پہنچا تھا تاہم سعودی فرماں روا کی وفات کے غم نے بھی سعودی عرب کے پرچم کو مملکت کی فضاؤں میں اور دنیا بھر میں اس کے سفارت خانوں پر لہرانے سے نہیں روکا۔

دوسری جانب قانونی مشیر مشاری الحربی نے "العربیہ ڈاٹ نیٹ" کو بتایا کہ سعودی پرچم سے متعلق آرٹیکل 13 میں اس امر کو باور کرایا گیا ہے کہ قومی پرچم کے سرنگوں کیے جانے کی کسی طور بھی اجازت نہیں۔ یہ پرچم زمین اور سمندر کی سطح کو نہیں چھوئے گا اس لیے کہ پرچم عقیدہ توحید کے متن کا حامل ہے۔ مملکت سعودی عرب میں نظام حکومت کے آرٹیکل 3 کے مطابق ریاست کے پرچم کا رنگ سبز ہے ، پرچم کی چوڑائی اس کی لمبائی کا دو تہائی ہوگی، درمیان میں کلمہ (لا إله إلا الله محمد رسول الله) تحریر ہوگا جس کے نیچے تلوار ہوگی اور یہ پرچم کبھی سرنگوں نہیں ہوگا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں