بیروت: مسجد کے مینار اور گرجا گھر کا ٹاور ایک ساتھ چمک اٹھے!

لبنان میں مسلمان اور مسیحی برادری کی یکجہتی کی منفرد کوشش

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

لبنان میں طویل عرصے تک مذہبی اور فرقہ وارانہ خانہ جنگی کے بعد وہاں کی مسلمان اور مسیحی برادری نے مل جل کر زندگی گذارنے کا منفرد سفر شروع کیا ہے۔ اس کی تازہ مثال وسطی بیروت میں اس وقت دیکھی گئی جب سینٹ جارج کیتھڈرل چرچ کے ٹاور پر لگی گھنٹیوں پر روشنیاں اس وقت روشن ہوگئیں جب گرجا گھر کے قریب ہی واقع مسجد الامین کے مینارں سے برقی قمقے روشن ہوئے۔

لبنان میں مذہبی ہم آہنگی کی یہ کوشش ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ملک میں سیاسی افراتفری کا شکار ہے۔

وسطی بیروت کی جس شاہراہ پر جارج سینٹ کھیتڈرل چر واقع ہے اس کے اطراف میں طویل عرصے تک مذہبی نوعیت کی طویل لڑائیاں ہوتی رہیں جہاں پر خانہ جنگی کے بدترین مظاہر دیکھے گئے۔

جارج سینٹ کیتھڈرل چرج کی تاریخ 15 ویں صدی عیسوی سے شروع ہوتی ہے۔ اس چرچ کا مرکزی ٹاور چند گز کے فاصلے پر واقع جامع مسجد محمد الامین کے چاروں میناروں کی اونچائی کے برابر ہے۔ یہ مسجد آج سے دس سال قبل گرجا گھر کے قریب قومی یکجہتی کے لیے قائم کی گئی تھی تاکہ لبنان کے عیسائی اور مسلمان باہم مل جل کر رہ سکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں