خامنہ ای کا حکم.. شام میں لڑنے والے دہشت گردوں کو ایرانی شہریت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ 3 منٹ

ایرانی ادارے "الشہید فاؤنڈیشن" کے سربراہ محمد علی شہیدی نے بتایا ہے کہ سپریم رہ نما علی خامنہ ای نے شام میں تہران نواز غیر ملکی جنگجوؤں کو ایرانی شہریت دینے کے احکامات جاری کیے ہیں۔ ان جنگجوؤں میں افغان اور پاکستانی شہری شامل ہیں اور ایران ان کو "مُدافعینِ حرم" کا نام دیتا ہے۔ یہ جنگجو 2012 سے شام میں بشار الاسد کی فوج کے شانہ بشانہ شامی اپوزیشن گروپوں کے خلاف لڑ رہے ہیں۔

ایرانی قومی سلامتی کونسل نے ایک ہفتہ قبل شام میں "مدافعینِ حرم" کو جن میں افغان ملیشیا "فاطمیون" اور پاکستانی ملیشیا "زینبیون" کے عناصر شامل ہیں ایرانی شہریت دینے کی منظوری دی تھی۔ تجزیہ کاروں کے نزدیک تہران اس اقدام کے ذریعے ایران نواز غیر ملکی جنگجوؤں کی شام میں جاری جنگ میں شرکت پر حوصلہ افزائی کرنا چاہتا ہے۔

محمد علی شہیدی نے ایرانی روزنامے "جوان" سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ خامنہ ای نے شام میں غیر ملکی جنگجوؤں بالخصوص "فاطمیون" کے ارکان کو ایرانی شہریت دینے کا حکم دیا ہے۔ فاطمیون ملیشیا کے ارکان کی اکثریت ایران میں پناہ لینے والے افغانوں کی ہے۔ تہران نے ان کو بشار الاسد کی حکومت کے دفاع کے لیے شام بھیجا۔ ملیشیا کے بعض ارکان کے اعترافات کے مطابق ان جنگجوؤں کو ماہانہ 400 سے 600 ڈالر تنخواہ کے ذریعے آمادہ کیا گیا۔

ایران کے صوبے قُم میں "الشہید فاؤنڈیشن" کے ڈائریکٹر جواد ہاشمی نے انکشاف کیا تھا کہ شام میں لڑائی کے دوران "فاطميون" ملیشیا کے 235 ارکان مارے جا چکے ہیں۔ ان تمام کی تدفین قُم میں کی گئی۔

ایران ابھی تک شام میں اپنے ہمنوا غیر ملکی جنگجوؤں کی ہلاکت کے حوالے سے حقیقی تعداد کو چُھپاتا ہے۔ روزنامہ "جوان" کے مطابق ایرانی مرشد علی خامنہ ای نے "الشہید فاؤنڈیشن" کے سربراہ کے ساتھ ملاقات میں باور کرایا کہ " ان افراد کی اور ان کے اہل خانہ کی حفاظت اب ہمارے کاندھوں پر ہے اور ان کو شہریت دے کر الشہید فاؤنڈیشن کے زیر نگرانی رکھا جانا چاہیے"۔

انسانی حقوق کے میدان میں سرگرم عالمی اداروں اور امریکا سمیت مغربی ممالک نے بشار الاسد، روس ، ایران اور اس کے زیر انتظام ملیشیاؤں پر الزام عائد کیا کہ انہوں نے حلب اور شام کے دیگر شہروں میں شہریوں کے قتل عام کا ارتکاب کیا ہے۔

اس سے قبل امریکی اخبار "وال اسٹریٹ جرنل" نے اپنی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ ایران نے ماہانہ 500 ڈالر اور ایران میں غیر معینہ مدت کے قیام کی پیش کش کے عوض اپنی سرزمین پر موجود ہزاروں افغان پناہ گزینوں کو لڑائی کے لیے شام بھیجا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں