عراقی شیعہ ملیشیا کی 10 کلو میٹر شام کے اندر دراندازی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹہ

شام میں امریکی حمایت یافتہ ’سیرین ڈیموکریٹک فورس‘ کی طرف سے سنگین نتائج کی دھمکیوں کے باوجود بشار الاسد کی حامی عراق شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کے جنگجو شام کی سرحد عبور کرتے ہوئے 10 کلو میٹر اندر داخل ہوگئے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق الحشد الشعبی کے جنگجو گذشتہ روز سرحدی شہر الحسکہ کے نواحی قصبوں البواردی اور قصیبہ میں داخل ہوئے۔ ان کے خوف سے بڑی تعداد میں مقامی شہریوں نے نقل مکانی شروع کردی۔

خیال رہے کہ الحسکہ شہر پر ایک طرف سےداعشی جنگجو مسلسل فائرنگ کرتے ہیں اور دوسری جانب قصیبہ اور البواردی پر ایران نواز ملیشیاؤں کی طرف سے حملے جاری ہیں۔ ان دو طرفہ حملوں کے نتیجے میں مقامی آبادی بار بار نقل مکانی پر مجبور ہو رہی ہے۔

شام کی سرحد پامال کرتے ہوئے دس کلو میٹر اندر داخل ہونے والی الحشد الشعبی ملیشیا کی گولہ باری سے داعشی جنگجو پس پا ہوگئے۔

خیال رہے کہ الحشد الشعبی کے جنگجو گذشتہ دو روز کے دوران شام کی سرحد عبور کرنے کے لیے پرتول رہے تھے۔ الشعبی ملیشیا کےعناصر عراق میں سرحدی قصبے ام جریص میں متمرکز ہیں۔ شام اور عراق کے درمیان یہ قصبہ ایرانی نگرانی میں دو طرفہ آمدورفت کا ایک اہم اور تزویراتی اہمیت کا حامل راستہ ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں