بغیر مقدمہ اسرائیل نے فلسطینی خاتون پارلیمنٹرین کو 6 ماہ قید کی سزا سنا دی
اسراییل کی جانب سے فلسطینی شہریوں کے خلاف کھلی جارحیت اور انسانیت سوز مظالم کا سلسلہ جاری ہے۔ اسرائیل کی ایک عدالت نے انسانی حقوق کی کارکن اور خاتون رکن مجلس قانون ساز کے خلاف تعصب کا مظاہرہ کرتے ہوئے مقدمہ چلائے بغیر چھ ماہ قید کی سزا سنائی ہے۔
بین الاقوامی ادارے اسرائیل کی جانب سے انسانی حقوق کے کارکنوں اور اسرائیلی جارحیت کے خلاف آواز اٹھانے والے افراد کو جیلوں میں قید کرنا ایک غیر قانونی اور غیر انسانی فعل قرار دے رہے ہیں۔
اسرائیلی پولیس نے انسانی حقوق کے کام کرنے والی ممبر پارلیمںٹ خالدہ جرار کو چند روز قبل مقبوضہ مغربی کنارے کے علاقے رام اللہ میں ان کے گھر سے حراست میں لیا تھا۔ گرفتاری کے چند روز بعد اسرائیل کی فوجی عدالت نے انسانی حقوق کو پائمال کرتے ہوئے انہیں چھ ماہ جیل کی سزا سنائی ہے۔
واضح رہے کہ انسانی حقوق کی کارکن خالدہ جرار فلسطینی شہریوں کی حمایت اور اسرائیلی جارحیت کی مخالفت کی وجہ سے اس سے قبل بھی متعدد بار قید وبند کی صعوبتیں برداشت کر چکی ہیں۔
-
فلسطینی خاتون رکن پارلیمان سمیت 8 فلسطینی کارکن گرفتار
قابض صہیونی فوج نےفلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے کے وسطی شہر رام اللہ میں گھر گھر ...
مشرق وسطی -
فلسطینی خاتون رکن پارلیمنٹ اسرائیلی جیل سے رہا
اسرائیلی حکام نے فسلطینی قانون ساز کونسل (پارلیمنٹ) کی خاتون رکن خالدہ جرار کو ...
مشرق وسطی -
فلسطینی خاتون پارلیمنٹرین کو اسرائیلی عدالت سے سزائے قید
ایک اسرائیلی فوجی عدالت نے فلسطینی خاتون رکن پارلیمان کو ایک کالعدم تنظیم سے تعلق ...
مشرق وسطی