.

ایرانی جنرل قاسم سلیمانی کردستان میں، عراق کا کردفورسز کے انخلاء کی ڈیڈ لائن سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران کی سپاہ پاسداران انقلاب کے کمانڈر جنرل قاسم سلیمانی عراق کے خود مختار علاقے کردستان میں پہنچے ہیں۔ایک کرد ذریعے کے مطابق ان کی آمد کا مقصد کردستان اور بغداد حکومت کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی کے خاتمے کے لیے کرد قیادت سے بات چیت کرنا ہے۔

ادھر بغداد میں عراقی وزیراعظم حیدر العبادی کے ترجمان نے شمالی صوبے کرکوک سے کرد فورسز البیش المرکہ کے انخلاء کے لیے کوئی ڈیڈ لائن مقرر کرنے کی تردید کی ہے۔ترجمان کا کہنا ہے کہ حکومت نے ایسی کوئی ڈیڈلائن مقرر نہیں کی تھی۔

بغداد سے العربیہ کے نمائندے نے اطلاع دی ہے کہ عرا ق کے صدر فواد معصوم نے کرد اکثریتی شہر سلیمانیہ میں کردستان کے علاقائی صدر مسعود بارزانی اور وزیراعظم نوشیرواں بارزانی سے بحران کے حل کے لیے ہفتے کے روز بات چیت کی ہے۔بغداد حکومت اور خودمختار کردستان کی قیادت کے درمیان گذشتہ ماہ ریفرینڈم کے انعقاد کے بعد سے کشیدگی جاری ہے۔ کردستان میں 25 ستمبر کو منعقدہ اس ریفرینڈم میں قریباً 93 فی صد کرد ووٹروں نے عراق سے علاحدگی اور آزادی کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

ایک کرد عہدے دار نے گذشتہ روز یہ دعوی ٰ کیا تھا کہ بغداد کی مرکزی حکومت نے کرد فورسز کو تیل کی دولت سے مالا مال صوبے کرکوک سے انخلا کے لیے اتوار کی علی الصباح تک کا الٹی میٹم دیا تھا اور البیش المرکہ کو 6 جون 2014ء سے پہلے والی پوزیشنوں پر واپس جانے کی ہدایت کی تھی۔

کرکوک میں مختلف نسلوں کے لوگوں آباد ہیں لیکن اس صوبے میں تاریخی طور پر کرد آبادی کی اکثریت رہی ہے۔یہاں عرب اور ترکمن بھی بڑی تعداد میں آباد ہیں۔ عراقی فوجیوں نے جمعہ کو کرکوک کے جنوب میں واقع بعض علاقوں کا باضابطہ طور پر کنٹرول سنبھال لیا تھا۔ان میں شیعہ اکثریتی قصبہ طوز خرماتو بھی شامل ہے۔

اس وقت ہزاروں عراقی فوجی اور ان کی اتحادی ملیشیاؤں کے جنگجو کرکوک شہر سے باہر موجود ہیں اور وہ اس شہر کا کرد فورسز سے کنٹرول واپس لینے کی تیاری کررہے ہیں۔اس صورت حال میں عراقی فورسز اور البیش المرکہ کے درمیان مسلح کشیدگی کا خطرہ ظاہر کیا جار ہا ہے۔

کرد فورسز کا اس وقت کرکوک شہر اور صوبے میں تیل کے تین بڑے کنووں پر کنٹرول ہے۔ان آئیل فیلڈز سے نکلنے والے تیل کی آمدن کردستان کی علاقائی حکومت کے مالی وسائل کا اہم ذریعہ ہے۔یاد رہے کہ جون 2014ء میں داعش کے جنگجوؤں کی عراق کے شمالی اور شمال مغربی علاقوں کی جانب یلغار کے وقت کرکوک سے بھی عراقی فوج بھاگ گئی تھی اور اس کے بعد کرد فورسز نے اس صوبے کا سکیورٹی کنٹرول سنبھال لیا تھا۔