.

دھمکیوں کو مسترد کرتے ، ریفرینڈم منسوخ نہیں ہو گا: عراقی كردستان

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

کُرد قیادت نے عراقی حکومت کے اُس مطالبے کو مسترد کر دیا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ تنازع کے حل کے لیے بات چیت شروع کرنے کی پیشگی شرط کے طور پر آزادی کے ریفرینڈم کے نتائج کو منسوخ کیا جائے۔

عراقی کردستان کے صدر مسعود بارزانی کے کے معاون ہیمن ہورامی نے اپنی ٹوئیٹ میں بتایا ہے کہ حالیہ بحران کو زیر بحث لانے کے لیے اتوار کے روز سلیمانیہ کے قصبے دوکان میں منعقد اجلاس میں کُرد قیادت نے اس موقف کو دُہرایا کہ بغداد کے ساتھ بحران "پُر امن طور پر" حل ہونا چاہیے۔ انہوں نے ریفرینڈم کے منسوخ کرنے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ "بغداد کے ساتھ انفرادی سطح پر بات چیت نہیں ہو گی۔ کردستان میں دو مرکزی جماعتیں (نیشنل یونین اور ڈیموکریٹک پارٹی) بغداد کے ساتھ کسی بھی بات چیت کی صورت میں مشترکہ وفد کی صورت میں ہوں گی"۔

اجلاس میں کردستان کے صدر مسعود بارزانی کے علاوہ عراقی صدر فواد معصوم اور رواں ماہ انتقال کرجانے والے کرد رہ نما اور سابق صدر جلال طالبانی کی بیوہ ہیرو طالبانی نے بھی شرکت کی۔ اجلاس کے شرکاء نے عراقی فورسز کی جانب سے کرد پیشمرگہ فورس کے جنگجوؤں کو دی جانے والی "عسکری دھمکیوں" کو مسترد کر دیا اور اس بات کا عہد کیا کہ کسی بھی حملے کی صورت میں کردوں کے زیر کنٹرول اراضی کا بھرپور دفاع کیا جائے گا۔

اس سے قبل اتوار کے روز ایک کرد ذمے دار نے بتایا تھا کہ ایرانی پاسداران انقلاب کا کمانڈر قاسم سلیمانی اربیل اور بغداد کے درمیان بحران میں اضافے پر بات چیت کے لیے عراقی کردستان پہنچا تھا۔

بغداد حکومت اور خودمختار کردستان کی قیادت کے درمیان گذشتہ ماہ ریفرینڈم کے انعقاد کے بعد سے کشیدگی جاری ہے۔ کردستان میں 25 ستمبر کو منعقدہ اس ریفرینڈم میں قریباً 93 فی صد کرد ووٹروں نے عراق سے علاحدگی اور آزادی کے حق میں ووٹ دیا تھا۔

ایک کرد عہدے دار نے گذشتہ روز یہ دعوی کیا تھا کہ بغداد کی مرکزی حکومت نے کرد فورسز کو تیل کی دولت سے مالا مال صوبے کرکوک سے انخلا کے لیے اتوار کی علی الصباح تک کا الٹی میٹم دیا تھا اور البیش المرکہ کو 6 جون 2014ء سے پہلے والی پوزیشنوں پر واپس جانے کی ہدایت کی تھی۔