.

فلسطینی دھڑوں کا 2018ء کے آخر میں انتخابات پر اتفاق

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کی زیرنگرانی فلسطینی دھڑوں بالخصوص اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ اور تحریک فتح کے درمیان طے پانے والےمصالحتی معاہدے کے بعد تمام جماعتوں نے 2018ء کے آخر تک عام انتخابات کے انعقاد پر اتفاق کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق بدھ کے روز قاہرہ میں مصری انٹیلی جنس حکام کی زیر نگرانی ہونے والی کل جماعتی کانفرنس میں 12 اکتوبر کو طے پائے معاہدے کو عملی شکل دینے پر اتفاق کیا گیا۔حتمی مذاکرات کے بعد جاری کردہ مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ تمام فلسطینی تنظیمیں طے کردہ شیڈول کے اندر فلسطینی قومی حکومت کی تشکیل اور تمام ذمہ داریاں قومی حکومت کو سپرد کرنے اور حکومت کو فلسطین کے بنیادی آئین اور قانون کے تحت چلانے سے اتفاق کیا گیا۔

اکیس اور بائیس نومبر کو قاہرہ میں ہونے والے فلسطینی مذاکرات فلسطین نیشنل کونسل کو فعال بنانے، قضیہ فلسطین کے حل کے لیے تمام فورمز پر کوششیں تیز کرنے، صہیونی ریاست کی طرف سے درپیش خطرات کا تدراک کرنے، فلسطین میں یہودی آباد کاری روکنے، بیت المقدس کو یہودیانے سے بچانے، قتل، مسماری، کریک ڈاؤن ناکہ بندی اور فلسطینی قوم کے خلاف جاری صہیونی ریاست کے تمام حربوں کا بھرپور مقابلہ کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔

بیان میں فلسطین کے قومی اصولوں اور دیرینہ مطالبات کی روشنی میں جدو جہد کرنے، فلسطینیوں میں مصالحت اور مفاہمت کو مزید گہرائی تک لے جانے کے فیصلے کے ساتھ قومی مصالحت کے حوالے سےمصر کی خدمات کو سراہا گیاْ۔ فلسطینی دھڑوں نے قومی مصالحت کا عمل آگے بڑھانے کے لیے مصری صدر عبدالفتاح السیسی کی کوششوں کا خصوصی طورپر خیر مقدم کیا۔

قاہرہ میں ہونے والی بات چیت میں تمام فلسطینی دھڑوں نے 12 اکتوبر2017ء کو حماس اور فتح کے درمیان طے پائے معاہدے کی تائید کی اور اسے فلسطینی دھڑوں میں پائے جانے والے اختلافات دور کرنے کے لیے تاریخی پیش رفت قرار دیا۔ تمام فلسطینی گروپوں نے قومی مصالحتی معاہدے کی تمام شقوں اور نکات پر ان کی روح کے مطابق عمل درآمد کرانے اور مقرر کردہ ٹائم فریم کے مطابق معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے پر زور دیا۔

مصالحتی مذاکرات میں تمام شرکاء نے فلسطین کے محاصرہ زدہ علاقے غزہ کی پٹی کے عوام کو ہرممکن ریلیف فراہم کرنے، ان کی تعلیم، صحت، خوراک، پانی، بجلی اور دیگر بنیادی ضروریات جلد از جلد پوری کرنے، تعمیر نو کے عمل میں تیزی لانے اور گذرگاہوں پر آمدورفت کو معمول پر لانےکی راہ میں حائل رکاوٹیں دور کرنے پر زور دیا گیا۔

خیال رہے کہ مصر کی زیرنگرانی فلسطینی دھڑوں حماس اور فتح سمیت تیرہ جماعتوں نے 21 اور 22 نومبر کو قاہرہ میں مذاکرات کئے۔ ان مذاکرات میں ایک ماہ قبل طے پائے مصالحتی معاہدے کو آگے بڑھانے اور اس پر عمل درآمد کی راہ میں حائل رکاوٹیں ختم دور کرنے سے اتفاق کیا گیا۔