ایرانیوں کا پیغام واضح ہے، وہ نظام کی تبدیلی چاہتے ہیں : شہزادہ رضا پہلوی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
وقت مطالعہ گھنٹے

سابق شاہ ایران کے بیٹے شہزادہ رضا پہلوی نے ایران میں مظاہروں کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے باور کرایا ہے کہ ایرانی عوام 40 برس تک مذہبی آمریت کے نظام کے تحت زندگی گزارنے کے بعد اس بات پر قائل ہو چکے ہیں کہ اس نظام کی اصلاح ممکن نہیں۔

جمعرات کی شام العربیہ نیوز چینل کے ایک پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ "ایران میں نوجوان نسل اس مسلّط آمرانہ نظام کی درستی کی کوئی امید نہیں رکھتی۔ بدعنوانی کے سبب غربت، بھوک اور بے روزگاری پھیل چکی ہے۔ صرف ایک چیز مضبوط ہوئی ہے اور وہ ہے کریک ڈاؤن کا طریقہ کار"۔

رضا پہلوی کے مطابق ایرانیوں کا پیغام واضح ہے۔ وہ اس نظام کی مکمل تبدیلی اور جماعتی جمہوری نظام کا قیام چاہتے ہیں۔ یہ تعمیرِ نو اور تمام ایرانی شہریوں کے حقوق کی ضمانت کا واحد راستہ ہے۔

پہلوی نے باور کرایا کہ "ایران مشرق وسطی کا جاپان بن سکتا تھا مگر افسوس کی بات ہے کہ وہ خطّے کا شمالی کوریا بن گیا"۔

پہلوی کے مطابق حالات اور واقعات یہ ثابت کرتے ہیں کہ مطلق العنان نظام اب ڈٹا نہیں رہ سکتا اور اب یہ ممکن نہیں کہ ایک سوچ پورے ملک پر قابض رہے۔ ایرانی عوام پر لازم ہے کہ وہ خود پر بھروسہ کریں۔ حالیہ تحریک کے کامیاب ہونے کی ضرورت ہے اس لیے کہ یہ ایرانی عوام اور خطّے کے مفاد میں ہے۔

رضا پہلوی نے باور کرایا کہ وہ ایران میں بزورِ طاقت تبدیلی کے واسطے کسی داخلی تشدد یا بیرونی فوجی مداخلت کی حمایت نہیں کرتے ہیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں