اسدی فوج کی بمباری، زہریلی گیس سے متعدد شہری بے ہوش
شام میں انسانی حقوق کے کارکنان کی طرف سے کہا گیا ہے کہ اسدی فوج نے شمال مغربی شہر سراقب میں زہریلی گیسوں سے تیار کردہ بموں سے حملہ کیا ہے جس کے نتیجے میں متعدد افراد زہریلی گیس سے دم گھٹنے سے متاثر ہوئے ہیں۔
انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ادارے’آبزرویٹری‘ کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ گذشتہ روز اسدی فوج کے جنگی طیاروں نے سراقب شہر میں بمباری کی جس کے نتیجے میں کم سے کم 5 افراد دم گھٹنے سے زخمی ہوئے ہیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ممکنہ طورپر بمباری کرنے والے طیارے روسی ہوسکتے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق مبینہ روسی جنگی طیاروں نے ادلب کے جنوبی علاقے معرۃ النعمان میں ایک اسپتال پر بمباری کی جس کے نتیجے میں اسپتال کا نظام درہم برہم ہوگیا ہے۔
#Saraqeb @SyriaCivilDef teams respond to an attack with chlorine gas. 9 injured including 3 White Helmet volunteers. Attacks like this, in violation of UN Security Council resolutions, happen with impunity. @BBCWorld @cnnbrk pic.twitter.com/mLtfQ0OMnv
— The White Helmets (@SyriaCivilDef) February 4, 2018
آبزرویٹری کے مطابق اسدی فوج نے سراقب میں متعدد مقامات پر ہیلی کاپٹروں کے ذریعے بم باری کی جس کے نتیجے انتہائی بدبودار گیس پھیل گئی اور کم سے کم پانچ افراد دم گھنٹے سے بے ہوش گئے۔
آبزویٹری نے مقامی طبی ذرائع اور عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا ہے کہ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے زہریلی گیس والے بم گرائے گئے جس کے نتیجے میں کئی افراد دم گھٹنے سے متاثر ہوئے ہیں۔ تاہم اس زہریلی گیس کی نشاندہی نہیں ہوسکی ہے۔
انسانی حقوق آبزرور رامی عبدالرحمان نے بتایا کہ معمرۃ النعمان اور اس کے اطراف میں ایک اسپتال پر وحشیانہ بمباری کی گئی جس کے نتیجے میں اسپتال میں طبی سرگرمیاں معطل ہوگئی ہیں۔
During the work of the #CivilDefense to extinguish the huge fires in the central hospital in #Maart_AlNuman as a result of the heavy air raids that targeted the hospital and led to it complete departure from work. pic.twitter.com/mnEtxbsUcL
— The White Helmets (@SyriaCivilDef) February 4, 2018
بمباری کے نتیجےمیں معصران کے مقام پر کم سے کم دو شہری مارے گئے۔
ادھر معرہ النعمان کے قریبی علاقے کفر نبل میں بمباری کے نتیجے میں چھ افراد کے مارے جانے کی اطلاعات ہیں۔
خیال رہے کہ شام میں اسدی فوج کی جانب سے زہریلی گیس سے تیار کردہ ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال کوئی نئی بات نہیں۔ 22 جنوری کو اسدی فوج نے مشرقی دمشق کے محاصرہ زدہ علاقے دوما میں ایسے ہی مشکوک زہریلی گیس کا استعمال کیا جس کے نتیجے میں 21 شہری دم گھٹنے سے متاثرہوئےتھے۔
انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق اپریل 2017ء کو اسدی فوج نے شمال مغربی شہر ادلب میں خان شیخون کےمقام پر مہلک گیس کا استعمال کیا تھا جس کے نتیجے میں 87 افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔ اقوام متحدہ نے زہریلی گیس کے نتیجے میں شہریوں کے قتل عام کی ذمہ داری شامی حکومت پرعاید کیا تھا۔
-
شام میں جنگجوؤں کو زمین سے فضا میں مار والے میزائل نہیں دیے : امریکا
شام کے صوبے ادِلب میں روسی فوجی طیارے کے سقوط اور اس کے ہواباز کی ہلاکت کے چند ...
صفحة اول -
شام میں تباہ روسی طیارے کے مقتول پائلٹ کی تصاویر جاری
گذشتہ روز شام کے شہر ادلب میں باغیوں کی جانب سے مار گرائے گئے روسی طیارے اور اس کے ...
مشرق وسطی -
شمالی کوریا شام اور میانمار کواسلحہ فروخت کرتا رہا:خفیہ رپورٹ میں انکشاف
اقوام متحدہ کے آزاد مبصرین نے ایک خفیہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ شمالی کوریا ...
مشرق وسطی