مشرقی الغوطہ میں 400 ہلاکتیں، سعودی عرب اور امارات کا شام سے تشدد روکنے کا مطالبہ
شام کے دارالحکومت دمشق کے نواح میں واقع علاقے مشرقی الغوطہ میں اسدی فوج کی فضائی بمباری کے نتیجے میں گذشتہ پانچ روز کے دوران میں ہلاکتوں کی تعداد چار سو سے بڑھ گئی ہے جبکہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات نے شام سے مشرقی الغوطہ میں شہریوں کے خلاف تشدد بند کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
سعودی عرب کی وزارت خارجہ نے جمعرات کو ٹویٹر پر ایک بیان میں شامی رجیم پر زور دیا ہے کہ ’’وہ تشدد روک دے ، (جنگ زدہ علاقوں میں ) انسانی امداد لے جانے کی اجازت دے اور بحران کے حل کے لیے سنجیدگی سے مذاکرات کا راستہ اختیار کرے‘‘۔
بیان میں کہا گیا ہے کہ ’’ ہمیں شامی رجیم کے مشرقی الغوطہ پر جاری حملوں اور ان کے شہریوں پر اثرات پر تشویش لاحق ہے‘‘۔ لیکن سعودی وزارت خارجہ نے واضح الفاظ میں شامی فوج کے باغیوں کے زیر قبضہ علاقوں پر فضائی حملوں کی مذمت نہیں کی ہے۔البتہ اس نے دمشق حکومت پر زور دیا ہے کہ وہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد نمبر 2254 کی پاسداری کرے۔اس میں شام بھر میں جنگ بندی اور سیاسی انتقال اقتدار پر زور دیا گیا ہے۔
متحدہ عرب امارات کی وزارت ِخارجہ نے بھی مشرقی الغوطہ میں تشدد میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے اور خونریزی رکوانے اور شہریوں کے تحفظ کے لیے فوری طور پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔اس نے شہریوں تک انسانی امداد اور ادویہ پہنچانے کی ضرورت پر بھی زور دیا ہے۔
شام کے لڑاکا طیاروں نے گذشتہ چند کے دوران میں باغیوں کے زیر قبضہ مشرقی الغوطہ کے علاقوں پر تباہ کن اور وحشیانہ بمباری کی ہے۔اس کا نشانہ بچوں ، خواتین اور ہر عمر کے مردوں سمیت عام شہری بن رہے ہیں۔اس تباہ کن بمباری سے گذشتہ پانچ روز میں مرنے والوں کی تعداد چار سو سے تجاوز کر چکی ہے۔
اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوٹیریس نے مشرقی الغوطہ میں گذشتہ اتوار سے جاری ہلاکتوں اور تباہ کاریوں کو زمین پر جہنم سے تعبیر کیا ہے اور فوری طور پر انسانی بنیاد پر جنگ بندی کا مطالبہ کیا ہے۔فرانس نے بھی شام میں جنگ بندی پر زور دیا ہے۔
برطانیہ میں قائم شامی رصدگاہ برائے انسانی حقوق نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شامی رجیم اور اس کے اتحادی روس کے تباہ کن فضائی حملوں اور توپ خانے سے شدید گولہ باری سے پانچ روز میں 403 شہری مارے جاچکے ہیں اور ان میں 96 بچے بھی شامل ہیں۔
رصدگاہ کے سربراہ رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ جمعرات کو فضائی حملوں اور راکٹ باری سے 46 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔انھوں نے مزید بتایا کہ مشرقی الغوطہ سے باغی جنگجوؤں کے دارالحکومت دمشق پر راکٹ حملوں میں بھی 16 افراد مارے گئے ہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں آج جمعرات کو ایک مجوزہ قرار داد پر رائے شماری متوقع ہے۔اس میں شام میں فوری طور پر تیس روز کے لیے جنگ بندی پر زوردیا گیا ہے تاکہ جنگ زدہ علاقوں میں انسانی امداد اور ادویہ پہنچائی جاسکیں اور شدید زخمیوں کو ان کے علاقوں سے نکال کر دوسرے شہروں میں علاج کے لیے منتقل کیا جا سکے۔