رفیق حریری کے قاتلوں پر فرد جرم کے لیےکافی شواہد موجود ہیں:عدالت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اقوام متحدہ کے زیرانتظام ہیگ میں قائم عالمی عدالت کے ججوں کا کہنا ہے کہ سنہ 2005ء میں سابق لبنانی وزیراعظم رفیق حریری کو ایک بم دھماکے میں قتل کرنا ایک دہشت گردانہ کارروائی تھی۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق رفیق حریری کے قتل کی تحقیقات کے لیے قائم کیے گئے خصوصی ٹریبونل نے ایک بیان میں کہا کہ پراسیکیوٹر کی طرف سے پیش کردہ ثبوت چارملزمان کے خلاف فرد جرم پیش کرنے کے لیے کافی ہیں۔ جب کہ ملزمان کے وکیل ان کے مسلسل دفاع میں بول رہے ہیں۔

عدالت نے چار میں سے ایک ملزم کی طرف سے بریت کے لیے دی گئی درخواست مسترد کردی ہے۔ ان پر رفیق حریری کو قاتلانہ حملے میں قتل کرنے کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

جوڈیشل بنچ کے چیئرمین ڈیوڈ ری کا کہنا ہے کہ عدالت اس نتیجے تک پہنچی ہے کہ استغاثہ کی طرف سے پیش کردہ تمام دلائل کافی ہیں اور دلائل کی روشنی میں حسین عیسیٰ نامی ملزم سمیت چار ملزمان کے خلاف فرد جرم پیش کی جاسکتی ہے۔

جج کا کہنا تھا کہ عدالت ملزم کے بری ہونے کے حوالے سے پیش کردہ بیانات اور شواہد کا بھی جائزہ لیتی رہی ہے۔ اگر پراسیکیوٹر کی طرف سے مکمل شواہد فراہم نہ کیے جاتے تو اسے بری بھی کیا جاسکتا تھا۔

خیال رہے کہ رفیق حریری کے چار قاتلوں جن میں حسین عینسی بھی شامل ہیں کے خلاف ہالینڈ کی ایک عدالت میں رفیق حریری کے قتل میں ملوث ہونے کامقدمہ چل رہا ہے۔

چوالیس سالہ عینسی کے وکلاء کا کہنا ہے کہ ان کے خلاف پیش کردہ پانچوں الزامات کو ختم کردیا جانا چاہیے کیونکہ استغاثہ ان کے ملزم کے خلاف کسی قسم کا دعویٰ ثابت نہیں کرسکی ہے۔

ملزم کے خلاف پیش کردہ شواہد میں موبائل فون سے حاصل کردہ ڈیٹا، فون کی سمیں اور دیگر اشیاء جو اس دھماکے میں استعمال کی گئیں شامل ہیں۔

خیال رہے کہ سابق لبنانی وزیراعظم رفیق حریری کو چار فروری 2005ء کو بیروت میں ہونے والے ایک دھماکے میں ہلاک کردیا گیا تھا۔

رفیق حریری کے قتل کی تحقیقات کے لیے اقوام متحدہ کی زیرنگرانی ایک ٹریبونل قائم کیا گیا تھا جس نے سنہ 2011ء میں حزب اللہ کے چار ارکان کو اس جرم میں ملوث ہونے کے شبے میں حراست میں لینے کا حکم دیا تھا تاہم ملزمان نے صحت جرم سے انکار کیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں